امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کا مسعود پزشکیان کو فون: صدر ٹرمپ کا ایران کے پاور پلانٹس پر حملے 5 روز تک مؤخر کرنے کا اعلان
عالمی میڈیا کے مختلف ذرائع اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ امریکا اور ایران کے نمائندوں کے مابین مذاکرات جلد پاکستان کے دارلحکومت میں منعقد ہو سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان حالیہ دنوں میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے سرگرم رہا ہے۔
Axios reports efforts are underway to arrange a meeting this week in Pakistan between Mohammad Bagher Qalibaf and US officials JD Vance, Steve Witkoff, and Jared Kushner. pic.twitter.com/yoPSUxST0z
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) March 23, 2026
گزشتہ برس بھی امریکی حکومت نے ایران کے معاملات میں ثالثی کے لیے پاکستان کی آمادگی کو سراہا تھا۔
Mediators are trying to convene talks in Islamabad later this week, with Ghalibaf leading Iran’s delegation and Witkoff, Kushner, and possibly JD Vance representing the U.S.
Source: Axios
— Clash Report (@clashreport) March 23, 2026
مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں منعقد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جبکہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔
Pakistan reportedly may host US-Iran talks later this week. Islamabad has been pitching itself as a mediator in recent days, and the USG praised Pakistan last year for its willingness to play an Iran mediation role. https://t.co/pn9sYB7GY1
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) March 23, 2026
یہ مذاکرات اس وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اور توانائی کے عالمی بحران نے نئی شدت اختیار کر لی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے خطرناک صورتحال کو قابو میں لانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر کی امریکا ایران جنگ بندی کے لیے کوششیں، رائٹرز
کشیدگی کم کرنے کی حالیہ بات چیت میں پاکستان، ترکی اور مصر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
🚨An Israeli official told ne the mediating countries were trying to convene a meeting in Islamabad — with Ghalibaf and other officials representing Tehran, and Witkoff, Kushner and possibly Vice President Vance representing the U.S. – possibly later this week https://t.co/hPxezRUbKy
— Barak Ravid (@BarakRavid) March 23, 2026
خبر رساں ادارے رائٹرز کے رپورٹر کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ایران چاہتا ہے کہ امریکا جو جنگ کا آغاز کرنے والا فریق ہے براہِ راست مذاکرات میں شریک ہو۔
مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ کے امریکا ایران مذاکرات کی خبروں پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
رائٹرز کے مطابق اس کے رپورٹر نے ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ گفتگو کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور باقی مسائل کا حل تھا۔
Pakistan may host the most consequential talks between US & Iran this week. US side is likely to be represented by the Vice President, Steve Witkof & Jarred Kushner while the Iranian Parliamentray speaker will represent Tehran, reports @axios
If that happens and lead to…
— Kamran Yousaf (@Kamran_Yousaf) March 23, 2026
پاکستان، ترکی اور مصر کے تعاون سے مذاکرات کے راستے کھل گئے جس سے خطرناک صورتحال کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی۔
مزید پڑھیں: کیا تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے؟
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی بجلی گھروں پر کسی بھی فوجی حملے کو 5 دن کے لیے مؤخر کرنے کے احکامات دیے ہیں۔














