اکتوبر 2025 کے معاہدے کے بعد حکومت کی جانب سے ہیلتھ کارڈ کی بحالی، موبائل ٹاورز کی واپسی، تعلیمی اصلاحات، ایف آئی آرز کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی جیسے اقدامات کیے جا چکے ہیں، لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے 9 جون 2026 کو تیسری بڑی احتجاجی کال دی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کا صحافیوں پر تشدد : صحافتی گروپ متحد، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم
قریباً 100 دن بعد احتجاج کا اعلان اور مطالبات کی غیر واضح نوعیت نے اس تحریک کی سمت پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ایک طرف حکومت پیشرفت کا دعویٰ کر رہی ہے، تو دوسری جانب جے اے اے سی مسلسل سڑکوں پر دباؤ کی حکمتِ عملی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بحث کو جنم دیتی ہے کہ آیا یہ تحریک واقعی عوامی مفاد کے لیے ہے یا محض سیاسی دباؤ کا ایک سلسلہ ہے۔ احتجاج کے باوجود مطالبات کی شفافیت کا فقدان ایجنڈے کی وضاحت کو مبہم بنا رہا ہے، جبکہ حکومت اقدامات اور پیشرفت کا تسلسل برقرار رکھنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
اب حقیقی امتحان یہ ہے کہ آیا یہ تحریک مکالمے اور تعاون کی طرف جائے گی یا محض احتجاجی سیاست تک محدود رہ جائے گی۔














