راجا شجاعت خان نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی سیاست پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے نفرت پر مبنی اور پاکستان مخالف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے جون 2026 میں احتجاج کی تاریخ جان بوجھ کر رکھی تاکہ انتخابات کے قریب عبوری حکومت کے دوران اپنی سیاسی طاقت بڑھائی جا سکے۔
مزید پڑھیں:معاہدے کے باجود احتجاجی کال: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حکمت عملی اور حکومتی پیشرفت کے درمیان کشمکش
راجہ شجاعت نے بتایا کہ کمیٹی کی تمام پراپگنڈا سرگرمیاں دراصل پاکستان کے خلاف ہیں اور ان کی پشت پناہی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کر رہا ہے، جو نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ گلگت بلتستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کا ایجنڈا رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی بھارتی زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش رہتی ہے اور پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگاتی ہے۔ اس کے علاوہ، بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو اپنے ایجنڈے کے لیے ہمنوا بناتی ہے، جو جے کے ایل ایف کی حمایت یافتہ سرگرمیوں پر عمل کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی
راجہ شجاعت کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سیاسی سرگرمیاں صرف عبوری حکومت کے دوران طاقت بڑھانے کی چال نہیں، بلکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی سازشوں کا حصہ بھی ہیں، اور اس لیے اس کے ایجنڈے کو پاکستان اور خطے کی یکجہتی کے لیے خطرہ تصور کیا جانا چاہیے۔














