معاہدے کے باجود احتجاجی کال: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حکمت عملی اور حکومتی پیشرفت کے درمیان کشمکش

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اکتوبر 2025 کے معاہدے کے بعد حکومت کی جانب سے ہیلتھ کارڈ کی بحالی، موبائل ٹاورز کی واپسی، تعلیمی اصلاحات، ایف آئی آرز کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی جیسے اقدامات کیے جا چکے ہیں، لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے 9 جون 2026 کو تیسری بڑی احتجاجی کال دی ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کا صحافیوں پر تشدد : صحافتی گروپ متحد، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم

قریباً 100 دن بعد احتجاج کا اعلان اور مطالبات کی غیر واضح نوعیت نے اس تحریک کی سمت پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ایک طرف حکومت پیشرفت کا دعویٰ کر رہی ہے، تو دوسری جانب جے اے اے سی مسلسل سڑکوں پر دباؤ کی حکمتِ عملی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بحث کو جنم دیتی ہے کہ آیا یہ تحریک واقعی عوامی مفاد کے لیے ہے یا محض سیاسی دباؤ کا ایک سلسلہ ہے۔ احتجاج کے باوجود مطالبات کی شفافیت کا فقدان ایجنڈے کی وضاحت کو مبہم بنا رہا ہے، جبکہ حکومت اقدامات اور پیشرفت کا تسلسل برقرار رکھنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

اب حقیقی امتحان یہ ہے کہ آیا یہ تحریک مکالمے اور تعاون کی طرف جائے گی یا محض احتجاجی سیاست تک محدود رہ جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز