وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا ناکام دورہ کوئٹہ، اصل وجوہات کیا رہیں؟

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی گزشتہ روز ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے، جہاں انہوں نے مختلف سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں میں شرکت کی۔ دورے کے دوران انہوں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اعلیٰ عہدیداران اور پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ضلع پشین میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک جلسہ عام سے بھی خطاب کیا۔

مزید پڑھیں: کیا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان برف پگھل رہی ہے؟

کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچنے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا استقبال پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ اور پارٹی کے چند کارکنان نے کیا۔ تاہم اس موقع پر کارکنوں کی بڑی تعداد موجود نہیں تھی جس کے باعث سیاسی مبصرین کی جانب سے اس دورے پر مختلف تبصرے سامنے آئے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے اس دورے کو ان کے ماضی کے دیگر سیاسی دوروں سے قدرے مختلف قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وہ کراچی کا دورہ بھی کر چکے ہیں، جہاں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے ان کا بھرپور استقبال کیا تھا اور پارٹی نے اپنی عوامی قوت کا نمایاں مظاہرہ کیا تھا، تاہم بلوچستان کے حالیہ دورے میں ایسی عوامی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

پشین میں منعقد ہونے والے جلسے کو بھی سیاسی حلقوں کی جانب سے خاصی توجہ حاصل رہی۔ پشین کو عموماً پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ جلسے میں موجود بعض افراد کے مطابق جلسہ گاہ میں شرکا کی تعداد قریباً ڈیڑھ سے 2 ہزار کے درمیان تھی جبکہ جلسہ گاہ کے کئی حصوں میں خالی کرسیاں بھی نظر آئیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا یہ دورہ توقعات کے مطابق عوامی توجہ حاصل نہیں کر سکا۔

ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بڑی تعداد میں متحرک دکھائی نہیں دیے اور نہ ہی جلسے کے ذریعے کوئی بڑا سیاسی اثر قائم ہو سکا۔

بعض مبصرین کے مطابق بلوچستان میں پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوری اور مقامی سیاسی جماعتوں کی مضبوط موجودگی اس کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ جلسے میں شرکت محدود رہی، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کے لیے اہم قرار دی جا سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ہڑتال کی ناکامی پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ ثابت ہوئی، عوام نے انتشار کی سیاست مسترد کردی، وفاقی وزرا

ان کے مطابق ایسے دورے سیاسی روابط بڑھانے اور آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر سیاسی مبصرین اس دورے کو ایک اہم مگر محدود عوامی توجہ حاصل کرنے والا دورہ قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں بلوچستان کی سیاست میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: سماعت 6 اپریل تک ملتوی

’دھنیا فریج میں اگتا رہتا ہے؟‘، ندا یاسر کے بیان پر صارفین کی ٹرولنگ

تاجر رہنما عامر اعوان کے قتل میں منصور خان گینگ ملوث، افغان باشندے بھی شامل تھے، طلال چوہدری

بنگلہ دیش: ایک لاکھ 92 ہزار ٹن سے زائد ایندھن، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن

اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کا نیا قانون، عالمی سطح پر شدید ردعمل

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا