بھارت کی ایک خصوصی عدالت نے کشمیر کی خاتون آزادی پسند رہنما آسیہ اندرابی کو دہشتگردی کی سرگرمیوں کے نام نہاد مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا دی۔
عدالت نے انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے آسیہ اندرابی کی 2 ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو بھی 30، 30 سال قید کی سزا سنائی۔
تینوں خواتین کو رواں سال 14 جنوری کو ایک کالعدم تنظیم دختران ملت سے وابستگی اور سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس تنظیم کا مقصد جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ کرنا تھا اور اس کی بنیاد آسیہ اندرابی نے رکھی تھی۔
آسیہ اندرابی کو بعض حلقوں میں آئرن لیڈی قرار دیا جاتا ہے اور وہ 2018 سے قید کے باوجود کشمیری عوام، خصوصاً خواتین میں مقبول ہیں۔
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قید و بند کے باوجود ان کے نظریات ختم نہیں ہوئے بلکہ مزید لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
کشمیریوں کا مؤقف ہے کہ جیسے دیگر حریت رہنماؤں کی قید ان کی آواز کو خاموش نہیں کر سکی، ویسے ہی آسیہ اندرابی کی سزا بھی ان کے نظریے کو دبانے میں ناکام رہے گی، بلکہ اس سے مزید لوگوں میں اس سوچ کو تقویت ملے گی۔













