یورپی یونین اور آسٹریلیا کا تجارتی معاہدہ، دفاعی تعاون اور معدنیات کی رسائی میں اضافہ

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی یونین اور آسٹریلیا نے طویل مذاکرات کے بعد منگل کو ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت دونوں جانب تجارتی روابط مضبوط ہوں گے اور دفاعی تعاون کے مواقع بڑھیں گے۔

مزید پڑھیں: ایندھن کی قلت کا خدشہ، آسٹریلیا نے پیٹرول کے معیار میں عارضی نرمی کردی

معاہدے میں آسٹریلیا کو کچھ جغرافیائی ناموں کے استعمال کی رعایت دی گئی جبکہ یورپی کار سازوں کے لیے لگژری گاڑیوں پر ٹیکس کی چھوٹ بھی شامل ہے۔

معاہدے کا مقصد عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران تجارت کو متنوع بنانا اور کمیاب معدنیات کے لیے چین پر انحصار کم کرنا ہے۔ یورپی یونین کی سربراہ اُرسلَا وان ڈیرلیئن نے کہا کہ یہ تعاون فریقین کی سلامتی کے لیے اہم ہے اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہے۔

مزید پڑھیں:قومی ترانہ نہ گانے کا معاملہ، ایرانی ویمنز فٹبال ٹیم کے 7 ارکان نے آسٹریلیا میں پناہ لے لی

چین نے یورپی یونین سے کہا کہ وہ پروٹیکشنزم کے اقدامات ترک کرے اور چین کی ترقی کو غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھے۔ معاہدے کے تحت توقع ہے کہ آئندہ 10 برس میں یورپی برآمدات آسٹریلیا کو ایک تہائی بڑھ جائیں گی، جس سے کاروباری مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: وزیراعظم کا سفارتی کوششوں میں تعاون فراہم کرنے والے ممالک سے اظہار تشکر

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟