بھارت کی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تو یہ بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی ناکامی ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کی کوششوں میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اس بات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب وزیراعظم شہباز شریف نے باضابطہ طور پر پاکستان کو امن مذاکرات کے میزبان کے طور پر پیش کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اگر امریکا اور ایران متفق ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
اس پیشکش کا اُس وقت مزید چرچا ہوگیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی پوسٹ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ری شیئر کیا۔
یہ بھی پڑھیے کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟
دوسری طرف کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ اگر پاکستان کے ثالثی کردار کی خبریں درست ہیں تو یہ بھارت کے لیے بڑی سفارتی ناکامی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سب وشو گرو پالیسی کا نتیجہ ہے۔
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے بعد پاکستان نے سفارتی میدان پر بہتر حکمت عملی اپنائی اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جبکہ مودی حکومت اس معاملے میں پیچھے رہ گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کے پاکستان، جو پہلے سیاسی، سماجی اور معاشی مشکلات کا شکار تھا، اب عالمی سطح پر دوبارہ فعال کردار حاصل کر رہا ہے۔
کانگریس رہنما نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی فوجی قیادت اور امریکی صدر کے درمیان رابطے نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھنے والا بھارت منظر سے غائب، پاکستان کے عالمی سطح پر چرچے
جے رام رمیش نے وزیراعظم مودی کے حالیہ اسرائیل کے دورےکو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے نے مشرق وسطیٰ میں بھارت کے ثالثی کردار کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے مزید بھی کہا کہ مودی کی خارجہ پالیسی اب بے نقاب ہو چکی ہے۔ اور ان کا اسرائیل کا دورہ بھارتی سیاسی تاریخ میں ایک انتہائی ناکام فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔













