برطانیہ میں ڈیجیٹل کرفیو کا تجربہ کیوں کیا جارہا ہے؟

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیوں اور ڈیجیٹل کرفیو کے تجربات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں سینکڑوں کم عمر افراد پر مختلف پابندیاں لگا کر ان کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق، برطانوی حکومت کی نگرانی میں ہونے والے اس منصوبے میں 300 نوجوان شامل ہوں گے۔ ان میں سے بعض کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس مکمل طور پر بند کیے جائیں گے، بعض کے لیے رات کے اوقات میں استعمال محدود ہوگا، جبکہ کچھ کو روزانہ صرف ایک گھنٹے تک سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ایک گروپ ایسا بھی ہوگا جس پر کوئی پابندی لاگو نہیں کی جائے گی تاکہ نتائج کا موازنہ کیا جا سکے۔

برطانوی وزیر ٹیکنالوجی لز کینڈل نے کہا کہ اس قدم کا مقصد حقیقی زندگی میں مختلف آپشنز کو آزمانا ہے تاکہ مستقبل کے لیے مؤثر پالیسی تیار کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والے نتائج حکومت کو آئندہ اقدامات کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے۔

یہ منصوبہ اس وسیع مشاورت کا بھی حصہ ہے جس میں یہ غور کیا جا رہا ہے کہ آیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی جائے، جیسا کہ آسٹریلیا میں کیا گیا ہے۔ عوامی رائے لینے کا عمل 26 مئی تک جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل منظور

پروگرام کے دوران بچوں اور والدین کے انٹرویوز بھی کیے جائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سوشل میڈیا کی پابندیوں کا اثر نیند، تعلیم اور گھریلو زندگی پر کتنا پڑتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ نوجوان ان پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے لیے کون سے طریقے استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس تجویز کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں حمایت حاصل ہے، جبکہ فرانس، سپین اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک بھی اس طرح کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی پابندیاں آسانی سے نظرانداز کی جا سکتی ہیں یا بچوں کو انٹرنیٹ کے مزید غیر محفوظ حصوں کی طرف لے جا سکتی ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے این ایس پی سی سی کی نمائندہ رانی گوویندر نے حکومت کی اس کوشش کو سراہا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اپنی پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانا ہوگا تاکہ بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچایا جا سکے۔

اسی طرح مولی روز فاؤنڈیشن نے بھی اس بات کی حمایت کی کہ حکومت جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے تحقیق اور تجربات کی بنیاد پر پالیسی تیار کرے۔

یہ بھی پڑھیے برطانیہ: سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا سخت انتباہ

مزید برآں، ایک بڑی سائنسی تحقیق بھی شروع کی جا رہی ہے جس میں 4 ہزار طلبہ شامل ہوں گے، جن کی عمر 12 سے 15 سال ہو گی۔ اس تحقیق میں سوشل میڈیا کے کم استعمال کے اثرات جیسے نیند، ذہنی دباؤ، سماجی تعلقات اور اسکول میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے سوشل میڈیا کے بچوں پر اثرات سے متعلق موجودہ ڈیٹا کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور مستقبل کی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: وزیراعظم کا سفارتی کوششوں میں تعاون فراہم کرنے والے ممالک سے اظہار تشکر

آپریشن ایپک فیوری کامیاب، ایران کو بڑی شکست دی، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ

ایوانِ صدر میں سفارتی تقریب، 6 ممالک کے سفیروں نے صدر زرداری کو اپنی اسناد پیش کیں

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟