برطانیہ میں نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیوں اور ڈیجیٹل کرفیو کے تجربات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں سینکڑوں کم عمر افراد پر مختلف پابندیاں لگا کر ان کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، برطانوی حکومت کی نگرانی میں ہونے والے اس منصوبے میں 300 نوجوان شامل ہوں گے۔ ان میں سے بعض کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس مکمل طور پر بند کیے جائیں گے، بعض کے لیے رات کے اوقات میں استعمال محدود ہوگا، جبکہ کچھ کو روزانہ صرف ایک گھنٹے تک سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ایک گروپ ایسا بھی ہوگا جس پر کوئی پابندی لاگو نہیں کی جائے گی تاکہ نتائج کا موازنہ کیا جا سکے۔
برطانوی وزیر ٹیکنالوجی لز کینڈل نے کہا کہ اس قدم کا مقصد حقیقی زندگی میں مختلف آپشنز کو آزمانا ہے تاکہ مستقبل کے لیے مؤثر پالیسی تیار کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والے نتائج حکومت کو آئندہ اقدامات کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے۔
یہ منصوبہ اس وسیع مشاورت کا بھی حصہ ہے جس میں یہ غور کیا جا رہا ہے کہ آیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی جائے، جیسا کہ آسٹریلیا میں کیا گیا ہے۔ عوامی رائے لینے کا عمل 26 مئی تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل منظور
پروگرام کے دوران بچوں اور والدین کے انٹرویوز بھی کیے جائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سوشل میڈیا کی پابندیوں کا اثر نیند، تعلیم اور گھریلو زندگی پر کتنا پڑتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ نوجوان ان پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے لیے کون سے طریقے استعمال کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس تجویز کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں حمایت حاصل ہے، جبکہ فرانس، سپین اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک بھی اس طرح کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی پابندیاں آسانی سے نظرانداز کی جا سکتی ہیں یا بچوں کو انٹرنیٹ کے مزید غیر محفوظ حصوں کی طرف لے جا سکتی ہیں۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے این ایس پی سی سی کی نمائندہ رانی گوویندر نے حکومت کی اس کوشش کو سراہا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اپنی پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانا ہوگا تاکہ بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچایا جا سکے۔
اسی طرح مولی روز فاؤنڈیشن نے بھی اس بات کی حمایت کی کہ حکومت جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے تحقیق اور تجربات کی بنیاد پر پالیسی تیار کرے۔
یہ بھی پڑھیے برطانیہ: سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا سخت انتباہ
مزید برآں، ایک بڑی سائنسی تحقیق بھی شروع کی جا رہی ہے جس میں 4 ہزار طلبہ شامل ہوں گے، جن کی عمر 12 سے 15 سال ہو گی۔ اس تحقیق میں سوشل میڈیا کے کم استعمال کے اثرات جیسے نیند، ذہنی دباؤ، سماجی تعلقات اور اسکول میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے سوشل میڈیا کے بچوں پر اثرات سے متعلق موجودہ ڈیٹا کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور مستقبل کی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گی۔












