کراچی میں عید کے موقع پر کاروباری مندی، تاجروں کو مالی دباؤ کا سامنا

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے معاشی حب کہلانے والے شہر کراچی میں عید الفطر کے موقع پر کاروباری سرگرمی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ تاجر تنظیموں کے مطابق امسال عید کے دوران کاروبار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 30 سے 40 فیصد کم رہا۔

مزید پڑھیں: عید کے دنوں میں پاکستان ریلوے نے کتنی آمدنی حاصل کی؟

تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کاروبار میں کمی کی بنیادی وجوہات کمر توڑ مہنگائی، بجلی کے بھاری بل، نئے ٹیکسز اور معاشی غیر یقینی صورتحال ہیں۔ متوسط طبقہ، جو عید کی خریداری کا بڑا حصہ ہوتا ہے، اب صرف بنیادی ضروریات کی اشیا تک محدود رہ گیا ہے۔

تاجر رہنما اسماعیل لعل پوریا کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اضافے اور نئے ٹیکس نظام نے کاروباری اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ گاہکوں کی کمی کے باعث منافع کے بجائے نقصان کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی معاشی صورتحال کے باعث عوام غیر ضروری اخراجات سے گریز کرتے ہوئے بچت کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عید کی خریداری پر پڑا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ تمام شعبے متاثر ہوئے، تاہم کپڑا اور ریڈی میڈ گارمنٹس سمیت چند مخصوص مارکیٹوں میں مندی زیادہ واضح رہی۔ مہنگائی کے باعث صارفین نے سستی اشیاء یا پرانے کپڑوں پر اکتفا کیا، جبکہ جوتوں اور مصنوعی زیورات کی طلب میں بھی کمی دیکھی گئی۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد: عیدالفطر کے دوران ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی ریکارڈ

ان کے مطابق جوڑی بازار اور جامع کلاتھ جیسے علاقوں میں اندرونِ ملک آرڈرز کم ہونے کی شکایات سامنے آئیں، جبکہ کئی تاجروں نے قرض لے کر مال خریدا تھا جو فروخت نہ ہونے کے باعث اب مالی بحران کا سبب بن رہا ہے۔

صدر آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے بتایا کہ گزشتہ برس عید سیزن میں قریباً 15 ارب روپے کا کاروبار ہوا تھا، جبکہ اس سال یہ 9 سے 10 ارب روپے کے درمیان رہ گیا۔ تاجروں نے بڑے پیمانے پر مال خریدا تھا مگر فروخت نہ ہونے کی وجہ سے 70 فیصد سے زائد سامان دکانوں اور گوداموں میں پڑا ہے، جس سے مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

عتیق میر نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں عید سیزن کے کاروبار میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے: 2015 میں 70 ارب، 2016 میں 65 ارب، 2017 میں 60 ارب، 2018 میں 50 ارب، 2019 میں 45 ارب، 2020 میں 40 ارب، 2021 میں 30 ارب، 2022 میں 23 ارب اور 2023 میں 20 ارب روپے کا ٹرن اوور ریکارڈ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: عید پر صارفین کو سست انٹرنیٹ سے شدید مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑا ؟

بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مہنگائی شہریوں کو خریداری سے روک رہی ہیں۔ ملبوسات، جوتے، فرنیچر، کاسمیٹکس، کھلونے اور تزئینی سامان سمیت تمام تجارتی شعبے دباؤ کا شکار ہیں، اور مارکیٹ میں گہما گہمی صرف چند گھنٹوں تک محدود رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp