سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے سنگل اور ڈویژنل بنچ کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا اور ہائی کورٹ کو قانون کے مطابق دوبارہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریری طور پر جاری کیا۔
ابتدائی سماعت لازمی قرار
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ توہین عدالت کی کارروائی میں فردِ جرم عائد کرنے سے قبل ابتدائی سماعت لازمی ہے۔
عدالت کے مطابق، مبینہ توہین کنندہ کو ابتدائی سماعت میں اپنا مؤقف پیش کرنے اور صفائی کا موقع دینا قانونی تقاضا ہے۔
ہائیکورٹ کے فیصلوں پر اعتراض
سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ سندھ ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے ابتدائی سماعت کا موقع دیے بغیر براہِ راست فردِ جرم کے لیے تاریخ مقرر کر دی۔ بعد ازاں ڈویژنل بینچ نے بھی اس قانونی سقم کو نظر انداز کیا۔
سپریم کورٹ نے دونوں بنچز کے طریقہ کار کو قانون کی غلط تشریح قرار دیا۔
قانونی اصول کی وضاحت
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت ابتدائی سماعت کے بعد ہی مطمئن ہو کر فردِ جرم عائد کر سکتی ہے۔ بغیر ابتدائی سماعت کے فردِ جرم عائد کرنا قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔
کیس کا پس منظر
یہ معاملہ ایک سول کیس میں عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر توہین عدالت کی درخواست سے متعلق ہے۔
سنگل بنچ نے ضابطہ کار مکمل کیے بغیر فردِ جرم کی تاریخ مقرر کی، جسے درخواست گزار نے ڈویژنل بنچ میں چیلنج کیا۔
تاہم، ڈویژنل بنچ نے قانونی خامی دور کرنے کے بجائے اپیل نمٹا کر معاملہ دوبارہ سنگل بنچ کو بھجوا دیا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت
سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ کیس ہائیکورٹ میں زیر التوا رہے گا۔ کارروائی کو قانون کے مطابق دوبارہ شروع کیا جائے۔
سپپریم کورٹ کے اس فیصللے کو توہین عدالت کے مقدمات میں منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔














