خیبر پختونخوا کے تاریخی شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی گرد آلود سڑکوں پر جب ایک لڑکی اعتماد کے ساتھ اپنی اسکوٹی پر گزرتی ہے تو یہ محض ایک سفر نہیں ہوتا بلکہ برسوں پرانی ان سماجی زنجیروں کو توڑنے کی ایک خاموش کوشش ہوتی ہے جو خواتین کی آزادی کو گھر کی دہلیز تک محدود رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر گھر کی ضرورت اسکوٹی بنتی کیسے ہے؟
قدامت پسند پشتون معاشرے میں جہاں خواتین کا اکیلے باہر نکلنا آج بھی کئی حلقوں میں تنقیدی نظروں کا شکار ہوتا ہے وہاں اثواء نے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
صبح سویرے اسکول جانے سے لے کر شام کو گھر کے سودا سلف کی خریداری تک اثواء اب رکشوں کے انتظار یا دوسروں کی منت سماجت کے بجائے اپنی اسکوٹی کو ترجیح دیتی ہیں۔
مزید پڑھیے: ’سڑکوں پر بے حیائی پھیلا رہی ہو‘۔ پشاور کی اسکوٹی گرل کو درپیش چیلنجز
خواتین کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ یا رکشوں میں سفر کرنا صرف تھکا دینے والا عمل نہیں بلکہ یہ اکثر ذہنی اذیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ ہراسانی اور نامناسب رویے خواتین کو خوف اور دباؤ کا شکار کر دیتے ہیں
مزید پڑھیں: 40 ہزار سکوں سے خریدی گئی اسکوٹی، باپ نے بیٹی کے خواب کو حقیقت بنا دیا
اثواء رجاح کے نزدیک اسکوٹی صرف ایک سواری نہیں بلکہ خودی اور تحفظ کا نام ہے۔ اس کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ چند اہم نکات بیان کرتی ہیں۔ تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔












