کیا بلوچستان میں ہونے والی بارشیں تیزابی ہیں؟

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان میں 25 مارچ اور پھر 27 سے 29 مارچ کے دوران بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران خاران، خضدار، کیچ، پنجگور، آواران، گوادر، پسنی، اوڑماڑہ، لسبیلہ، چاغی، دالبندین، سبی، کوہلو، بارکھان، نصیرآباد، نوشکی، کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، لورالائی، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، ژوب، قلات اور مستونگ سمیت مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے اور شدید بارشوں کے باعث 25 سے 28 مارچ کے دوران فلیش فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔

مزید پڑھیں: مون سون میں قوت مدافعت کو کیسے بڑھائیں؟

بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی بارشیں دراصل ایران میں ہونے والے مبینہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی تیزابی بارشیں ہیں، تاہم ماہرین نے اس دعوے کو سائنسی بنیادوں پر مسترد کردیا ہے۔

ماہر ارضیات دین محمد کے مطابق بلوچستان کا موسمی نظام جغرافیائی طور پر ایران اور مغربی ایشیائی خطے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ مغرب کی جانب سے آنے والی ہوائیں اور موسمی سسٹمز اکثر ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے صوبے کے بیشتر علاقوں میں بارشیں اور بعض اوقات برف باری بھی ہوتی ہے۔ یہ ایک قدرتی اور سائنسی عمل ہے جو صدیوں سے جاری ہے۔

دین محمد کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور ایران کے موسمی حالات میں مماثلت کی ایک بڑی وجہ دونوں خطوں کا جغرافیائی قرب اور یکساں موسمی پیٹرن ہے۔ جب بھی مغرب کی سمت سے بارش برسانے والا نظام حرکت کرتا ہے تو اس کے اثرات پہلے ایران اور پھر بلوچستان کے علاقوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مارچ کے مہینے میں ایران اور بلوچستان کے علاقوں میں موسم میں اچانک تبدیلیاں آنا ایک عام بات ہے۔ خاص طور پر نوروز کے دنوں میں اکثر بارشیں، تیز ہوائیں اور کبھی کبھار آندھی طوفان جیسی صورتحال بھی دیکھنے میں آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق نوروز ہر سال 21 مارچ سے شروع ہوتا ہے اور قریباً 9 دن تک جاری رہتا ہے۔ اس عرصے کے دوران خطے میں موسمی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے کیونکہ اس وقت موسم سرما کے اختتام اور بہار کے آغاز کے باعث فضائی دباؤ اور ہواؤں کے رخ میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسڈ رین (تیزابی بارش) دراصل اس وقت بنتی ہے جب فضا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ جیسی گیسیں بڑی مقدار میں موجود ہوں۔ یہ گیسیں پانی کے قطروں کے ساتھ مل کر تیزابی خصوصیات پیدا کرتی ہیں اور پھر بارش کی صورت میں زمین پر گرتی ہیں۔ عام طور پر ایسی صورتحال صنعتی علاقوں، بڑی فیکٹریوں، بجلی گھروں یا آتش فشانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور ایران کے اس خطے میں ایسی صنعتی سرگرمیاں اس سطح پر موجود نہیں کہ بڑے پیمانے پر تیزابی بارش پیدا ہو سکے۔

مزید پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، برفباری اور آندھی طوفان کا امکان، لینڈ سلائیڈنگ کا بھی الرٹ جاری

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں اس طرح کے موسمی حالات ہزاروں سال سے دیکھنے میں آ رہے ہیں، اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تیزابی بارش یا کسی غیر معمولی موسمی اثرات کی باتوں میں کوئی سائنسی حقیقت موجود نہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع اور ماہرین کی رائے پر اعتماد کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp