ماحولیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پاکستان کو آئندہ دہائیوں میں شدید خطرات کا سامنا ہوگا اور اندازہ ہے کہ سنہ 2050 تک ملک میں گرمی سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا جس کا زیادہ تر بوجھ شہری علاقوں پر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے گلگت بلتستان میں پیشگی اطلاعات کا جدید نظام قائم کیا جائے، وزیرِ اعظم
کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی ایک نئی تحقیق کے مطابق پاکستان میں سنہ 2050 تک ہر ایک لاکھ افراد میں اوسطاً 51 اضافی اموات متوقع ہیں جبکہ دنیا بھر میں قبل از وقت ہونے والی 90 فیصد اموات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوں گی۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور برکینا فاسو سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہوں گے۔ خاص طور پر پاکستانی شہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
پاکستان کے وہ شہر جو زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں
رپورٹ کے مطابق جہاں فینکس اور میڈرڈ جیسے امیر شہروں میں سالانہ بالترتیب 600 اور 525 اضافی اموات متوقع ہیں وہیں فیصل آباد میں یہ تعداد 9,400 تک پہنچ سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اسکردو کی قیمتی ٹراؤٹ مچھلی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی زد میں
تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے 8 بڑے شہر فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، لاہور، پشاور، حیدرآباد، راولپنڈی اور اسلام آباد ان 15 شہروں میں شامل ہیں جہاں سنہ 2050 تک اموات کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں گرمی سے ہونے والی اموات موجودہ دور تپ دق، پھیپھڑوں کی بیماری اور فالج سے ہونے والی اموات سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔
پاکستان میں ہر سال تقریباً 30 ہزار اضافی اموات
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا کے 301 بڑے شہروں میں درجہ حرارت سے متعلق اموات میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد اضافی اموات ہوں گی اور ان میں سے تقریباً ایک تہائی پاکستان کے شہروں میں ہوں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ماحولیاتی موافقت (ایڈاپٹیشن) کے لیے صرف 85 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن کا بڑا حصہ زراعت پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ انسانی صحت، معیشت اور پیداواری صلاحیت پر گہرے منفی اثرات ڈالے گا۔
مزید پڑھیں: وزیرِاعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی کی تیاری
انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر مؤثر حکمت عملی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے خطرات سے بچا جا سکے۔













