حال ہی میں ایک تجربے میں یہ واضح ہوا کہ اے آئی اتنا حقیقی لگنے لگا ہے کہ لوگوں کا اپنی شناخت ثابت کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیپ فیک ٹیکنالوجی: مصنوعی ذہانت نے نئی مشکل کھڑی کردی
بی بی سی کے ٹیکنالوجی صحافی تھامس جرمین نے اپنی خالہ ایلنور سے کہا کہ وہ ایک تجربے میں ان کی مدد کریں۔ صحافی نے انہیں بتایا کہ وہ دوبارہ فون کریں گے اور وہ یا تو واقعی ان (تھامس) سے بات کریں گی یا اے آئی ڈیپ فیک سے۔ سوال یہ تھا کہ کیا کوئی جو انہیں پوری زندگی جانتا ہے یہ فرق بتا سکے گا؟
دوبارہ بات ہوئی۔ شروع میں خالہ ایلنور نے یقین نہیں کیا کہ اے آئی ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری آواز جیسی لگ رہی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اصل انسان اے آئی سے زیادہ لہجے استعمال کرتا ہے لیکن کچھ دیر بعد وہ تھوڑی مشکوک ہو گئیں اور کہا کہ یہ کچھ مصنوعی سا لگا۔
ڈیپ فیک کے بارے میں عام تشویش یہ ہوتی ہے کہ کوئی آپ کو دھوکا دے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی آپ کو ڈیپ فیک کہے تو آپ اپنی اصلیت کیسے ثابت کریں گے؟
صحافی نے پوچھا کہ کیا وہ فوری طور پر اپنی اصلیت ثابت کر سکتا ہے؟ جواب تھا: نہیں۔
مزید پڑھیے: ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟
ماہرین کے مطابق بغیر اضافی اقدامات کے کسی بھی شخص کو 100 فیصد یقین دلانا ممکن نہیں کہ آپ اے آئی نہیں ہیں۔
ایسی صورتحال سے بچا کیسے جائے؟
اس کے حل کے طور پر ماہرین نے ایک پرانا لیکن مؤثر طریقہ تجویز کیا: کوڈورڈ یا خفیہ لفظ۔ یہ ایسا لفظ یا جملہ ہوتا ہے جو صرف خاندان یا قریبی ساتھی جانتے ہیں اور ہنگامی صورتحال میں اسے استعمال کرکے ایک دوسرے کی شناخت کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
مثال کے طور پر ماہر ہنی فرید کہتے ہیں کہ میری اور میری بیوی کے پاس ایک کوڈورڈ ہے جسے ہم غیر معمولی کال کے دوران استعمال کرتے ہیں۔
یہ مسئلہ محض خیالی نہیں بلکہ حقیقی ہے۔ ڈیپ فیک اسکیمیں لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور اس سے کروڑوں ڈالر کے نقصان کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔
صحافی نے اپنی خالہ ایلنور سے دوبارہ بات کی جو کہ کوڈورڈ کے بارے میں پہلے ہی خبردار تھیں۔ وہ انہیں کچھ لطیفے سناتے ہیں تاکہ رد عمل دیکھ سکیں۔ خالہ تھوڑی ہنسیں لیکن مکمل یقین نہیں کر پائیں۔ آخر کار جب صحافی نے حقیقت بتائی کہ وہ اے آئی نہیں بلکہ اصل ہیں تو خالہ نے محبت سے کہا کہ ’میں پکی طرح یقین نہیں کر سکتی لیکن میں تم سے محبت کرتی ہوں، بچے۔
مزید پڑھیں: ڈیپ فیک رومانس، خاتون ساڑھے 3 لاکھ ڈالرز سے محروم
ڈیپ فیک اے آئی اتنا حقیقت پسندانہ ہو گیا ہے کہ اپنی اصلیت ثابت کرنا عام لوگوں کے لیے بھی مشکل ہو گیا ہے اور کوڈورڈ یا خفیہ طریقہ کار سب سے مؤثر حل ہے۔














