مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے انسانی زندگی کے کئی شعبوں کو متاثر کیا ہے تاہم ایک نئی تحقیق نے اس حوالے سے ایک اہم تشویش کو بھی اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ‘مصنوعی ذہانت ادیبوں کے اثاثے چرانے میں مشغول، کیا ’خالی کتاب تحریک‘ یہ سلسلہ روک پائے گی؟
تحقیق کے مطابق اب مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی آوازوں اور اصل انسانی آواز کے درمیان فرق کرنا عام افراد کے لیے انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
تحقیق میں حیران کن نتائج
چینی محققین کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر افراد انسانی آواز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نقلی آواز کے درمیان واضح فرق کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق محدود تربیت کے بعد بھی لوگوں کی یہ صلاحیت صرف معمولی حد تک بہتر ہو سکی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی اب اتنی ترقی کر چکی ہے کہ اس کی تیار کردہ آوازیں انسانی کان کو بھی دھوکا دے سکتی ہیں۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
اس تحقیق میں چین کی تیانجیان یونیورسٹی اور ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین نے 30 رضاکاروں کو شامل کیا۔ شرکا کو دماغی سرگرمی جانچنے والے آلات سے منسلک کیا گیا اور انہیں مختلف صوتی ریکارڈنگز سنائی گئیں۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت ہمارا دماغ پڑھ لینے کے نزدیک، کیا یہ ہمارے لیے قابل قبول ہوگا؟
ان ریکارڈنگز میں کچھ آوازیں اصل انسانوں کی تھیں جبکہ بعض آوازیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھیں۔ مقصد یہ جانچنا تھا کہ شرکاء کس حد تک دونوں آوازوں میں فرق کر سکتے ہیں۔
شرکا کی اکثریت فرق نہ کر سکی
نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر شرکا انسانی اور اے آئی آواز میں فرق کرنے میں ناکام رہے۔
محققین نے اس گروپ کو ’کمزور تمیز رکھنے والا گروپ‘ قرار دیا کیونکہ ان کی اکثریت درست انداز میں یہ نہیں بتا سکی کہ کون سی آواز حقیقی ہے اور کون سی مصنوعی۔
تربیت کے باوجود محدود بہتری
بعد ازاں محققین نے شرکا کو تربیت دے کر ان کی صلاحیت بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن اس سے نتائج میں نمایاں فرق نہیں آیا۔ تاہم دماغی اسکین سے معلوم ہوا کہ تربیت کے بعد دماغ انسانی اور مصنوعی آواز کے درمیان موجود باریک فرق کو پہلے کے مقابلے میں کچھ زیادہ بہتر انداز میں محسوس کرنے لگا۔
ماہرین کی وضاحت
تحقیقی ٹیم کے سربراہ شیانگ بین ٹینگ کے مطابق دماغ کا سماعتی نظام اب آوازوں کے انتہائی معمولی فرق کو محسوس کرنا شروع کر رہا ہے لیکن زیادہ تر افراد اس احساس کو واضح فیصلے میں تبدیل نہیں کر پاتے۔
ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا بڑھتا خطرہ
یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب برطانیہ کی کوئین میری یونیورسٹی آف لندن کی ایک تحقیق نے بھی خبردار کیا تھا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ آوازیں اب انسانی آواز سے تقریباً ناقابل تمیز ہو چکی ہیں۔
تصاویر میں صورتحال قدرے مختلف
دوسری جانب تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصاویر کی شناخت میں لوگ نسبتاً بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ تاہم یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز اور آسٹریلین نیشنل یونیورسٹٰی کی تحقیق کے مطابق اکثر افراد اپنی اس صلاحیت پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
مالیاتی فراڈ کا خطرہ
ماہرین کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ آوازیں اور تصاویر مستقبل میں دھوکہ دہی کے واقعات کو بڑھا سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں سٹی بینک نے گزشتہ سال خبردار کیا تھا کہ ایسی ٹیکنالوجی ملازمتوں، مالیاتی لین دین اور اہم عہدے داروں کی شناخت کے حوالے سے فراڈ کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے دوستی کا رجحان کہیں حقیقی زندگی سے دوری کی شروعات تو نہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے پیش نظر مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مزید مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔














