پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 27 مارچ کو ہونے والی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔
ایسوسی ایشن کے رہنما جہانزیب ملک نے بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر 8 فیصد منافع کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم فی الحال پیٹرول پر فی لیٹر 6 روپے 70 پیسے کا منافع دیا جا رہا ہے۔
وزیر پیٹرولیم سے ملاقات کی درخواست
قبل ازیں آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو فوری ملاقات کے لیے مراسلہ بھیجا تھا۔
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ 6 مارچ کو بھی درخواست بھیجی گئی تھی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پیٹرولیم سیکٹر مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں آپریشنز، مالی مشکلات، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اچانک پالیسی تبدیلیاں شامل ہیں۔
ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ حکومت کو پالیسی سازی میں صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا چاہیے، کیونکہ ملک بھر کے 14 سے 15 ہزار پیٹرول پمپ مالکان کو فوری توجہ درکار ہے۔
ممکنہ بحران کی وارننگ
مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے، اور اس صورت میں پاکستان میں شدید فیول بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہاکہ اس ممکنہ بحران کی ذمہ داری وزارتِ پیٹرولیم پر عائد ہوگی۔














