ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل میں شامل کرلیا

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پالیسی کی تشکیل کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے بڑی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل میں شامل کرلیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ، اوریکل کے ایگزیکٹو چیئرمین لیری ایلیسن اور اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کو صدر کی سائنس و ٹیکنالوجی مشاورتی کونسل میں شامل کیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت سمیت اہم ٹیکنالوجی معاملات پر حکومت کو مشورے دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھارت میں نوکریاں دینا بند کریں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انتباہ

کونسل کے ابتدائی 13 ارکان میں گوگل کے شریک بانی سرگئی برن اور ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز کی چیف ایگزیکٹو لیزا سو بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق مستقبل میں کونسل کے ارکان کی تعداد بڑھا کر 24 تک کی جا سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت امریکی ترجیح قرار

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں مصنوعی ذہانت میں امریکی برتری کو مرکزی ترجیح قرار دیا ہے اور اسے چین کے ساتھ عالمی مسابقت کا اہم میدان بتایا ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد ہی انہوں نے وفاقی اداروں کو اے آئی ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کا مقصد ضوابط میں نرمی اور نجی شعبے کی جدت کو تیز کرنا ہے۔

پالیسی سازی میں اہم کردار

یہ کونسل عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے مقابلے کے تناظر میں امریکی حکمت عملی تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ کونسل کی مشترکہ صدارت وائٹ ہاؤس کے اے آئی اور کرپٹو مشیر ڈیوڈ سیکس اور ٹیکنالوجی ایڈوائزر مائیکل کریٹسیوس کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پینٹاگان نے امریکی اے آئی کمپنی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیدیا

نئی تقرریوں کو ٹرمپ انتظامیہ اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے درمیان بڑھتے تعاون کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ میٹا اور این ویڈیا نے امید ظاہر کی ہے کہ کونسل امریکا کی مصنوعی ذہانت میں پوزیشن مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گی، جبکہ بعض کمپنیوں نے فوری تبصرہ نہیں کیا۔

سرمایہ کاری اور مستقبل کی حکمت عملی

امریکی حکومت مصنوعی ذہانت کے شعبے کو تیزی سے فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں ٹیک کمپنیاں آئندہ برسوں میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے بنا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عالمی ٹیکنالوجی مقابلے میں امریکا کی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp