امریکا نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے شکست تسلیم نہ کی تو اس کے خلاف مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ایران کو غلط اندازے نہیں لگانے چاہییں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور قوت ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا و ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات کا امکان
انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ دھمکیاں نہیں دیتے اور ایران کو ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرنا چاہیے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے شکست نہ مانی تو امریکا اسے مزید نقصان پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں غلط اندازوں کے باعث ایران کی قیادت، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
ترجمان کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کے دوران دشمن کے 9 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران کے 90 فیصد میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے 140 سے زیادہ بحری جہاز بھی تباہ کیے گئے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بھی نیوی کو پہنچنے والا غیر معمولی نقصان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں، تاہم اس عمل میں نائب صدر جے ڈی وینس شریک رہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ایران کو دی گئی 5 روزہ مہلت میں توسیع کا اختیار صرف صدر ٹرمپ کے پاس ہے۔
ترجمان نے کہاکہ امریکا تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، اور ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد فیول کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کا ایران پر شدید حملوں کا اعلان، تہران نے مذاکرات سے انکار کردیا
ترجمان کے مطابق امریکا ایرانی پراکسیز کو بھی کمزور کرنا چاہتا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ جمعرات کو کابینہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے فنڈنگ کے معاملے پر تاخیری حربے استعمال کیے ہیں۔














