کراچی: ٹوٹی واٹر لائن میں 14 سالہ لڑکی ڈوب گئی، تلاش جاری

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیل ٹاؤن لنک روڈ کے قریب جوکھیو گوٹھ میں 14 سالہ ثنا پانی بھرنے کے دوران واٹر کارپوریشن کی 72 انچ قطر کی لائن میں ڈوب گئی۔ اہل خانہ کے مطابق لڑکی کینجھر جھیل سے آنے والی صاف پانی کی سپلائی لائن سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہی تھی کہ پھسل کر لائن میں جاگری۔

مزید پڑھیں: فلپائن میں کشتی 350 مسافروں سمیت ڈوب گئی، ریسکیو آپریشن جاری

واٹر لائن کی گہرائی 25 سے 30 فٹ بتائی گئی ہے اور پانی کا پریشر بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ روز اندھیرا ہونے کے سبب تلاش روک دی گئی تھی، جسے آج دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا کے قریب روہنگیا مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 7 ہلاک، سینکڑوں لاپتا

لڑکی کے والد نذیر احمد کا کہنا ہے کہ بیٹی اپنی کزن کے ساتھ پانی بھرنے آئی تھی۔ چچا گلزار چنا نے بتایا کہ لائن کئی مقامات سے ٹوٹی ہوئی ہے اور واقعے کے بعد ریسکیو ٹیمیں دیر سے پہنچیں۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا