پیپلزپارٹی کی سینیئر رہنما اور سینیٹر پلوشہ خان نے بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان سے متعلق نازیبا بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس ملک کا وزیراعظم اسرائیلی قیادت کے سامنے جھک کر کھڑا ہو اور نیتن یاہو کے سامنے گھنگرو باندھ کر ناچتا ہو، وہ پاکستان کے کردار پر سوال اٹھانے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کیا ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: علیم خان کے ساتھ تلخی کیوں ہوئی؟ سینیٹر پلوشہ خان نے اصل وجہ بتا دی
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو میں پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ان کی اپنی سیاسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، تاہم انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا پاکستان کے کردار کو ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو القابات بھارت پاکستان کے لیے استعمال کر رہا ہے، وہ درحقیقت خود اس پر زیادہ صادق آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ کردار نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ مسلم امہ کو قریب لانے کی کوششوں میں بھی نمایاں ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی اور سیزفائر جیسے اقدامات اسی سوچ کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد تنازعات کو کم کرنا اور امن کو فروغ دینا ہے۔
پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ ہر مسلمان ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس کے اختلافات کو کم کرے اور تصادم سے گریز کرے، کیونکہ مسلم دنیا کے اندرونی تنازعات پورے عالم اسلام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک باہمی اتحاد اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے۔
مزید پڑھیں: ن لیگ پی پی کشیدگی: سینیٹر پلوشہ خان نے شہباز شریف اور مریم نواز کو نشانے پر رکھ لیا
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس ضمن میں کوئی مثبت کردار ادا کر رہا ہے یا کر سکتا ہے تو یہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ قابل ستائش بھی ہے، اور عالمی برادری کو بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔













