ایک دور وہ تھا جب کراچی کے گنجان آباد علاقے اورنگی ٹاؤن کی پہچان صرف وہاں کی آبادی یا مسائل نہیں تھے، بلکہ اس کی گلیوں سے اٹھنے والی ریشم اور زری کے کام کی خوشبو اور وہ ہنرمند ہاتھ تھے جنہیں ’غلافِ کعبہ‘کی تیاری کا شرف حاصل تھا۔
تاریخی پس منظر
قیامِ پاکستان کے بعد خاص طور پر 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات انتہائی والہانہ تھے۔ اس وقت تک غلافِ کعبہ کی تیاری کے لیے مکہ مکرمہ میں وہ جدید اور مستقل کارخانہ موجود نہیں تھا جو آج ’ام الجود‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ان دنوں سعودی حکومت غلاف کی تیاری کے لیے دنیا کے بہترین ہنرمندوں کا انتخاب کرتی تھی، اور یہ قرعہ پاکستان کے شہر کراچی کے نام نکلا۔
اورنگی ٹاؤن کا انتخاب کیوں؟
اورنگی ٹاؤن میں قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے آنے والے ایسے کاریگروں کی بڑی تعداد آباد تھی جو بنارس (بھارت) سے آئے تھے۔ یہ لوگ صدیوں سے ریشم، زری، اور کڑھائی کے کام میں عالمی شہرت رکھتے تھے۔
مخصوص ورکشاپ
اورنگی ٹاؤن کے ایک مخصوص حصے میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے لیے خصوصی لومز لگائی گئی تھیں۔ اس کی تیاری میں خالص ریشم، چاندی کے تاروں اور سونے کی ملمع کاری کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ کاریگر غلاف کی بنائی یا اس پر قرآنی آیات کی کڑھائی کرتے تھے، تو وہ باوضو ہوتے تھے اور تلاوت قرآن و درود پاک کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
تکمیل اور روانگی
جب غلافِ کعبہ تیار ہو جاتا، تو اسے ایک پروقار تقریب کے ساتھ کراچی سے سعودی عرب روانہ کیا جاتا تھا۔ اس موقع پر پورے کراچی میں خوشی کا سماں ہوتا اور لوگ اس متبرک کپڑے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے میلوں سے پیدل چل کر آتے تھے۔
یہ سلسلہ کب ختم ہوا؟
1960 کی دہائی کے اواخر اور 1970 کی دہائی کے آغاز میں، سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے غلافِ کعبہ کی مکہ مکرمہ میں مستقل تیاری کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مکہ میں ’کسوہ فیکٹری‘ قائم کی تاکہ یہ مقدس کام مستقل طور پر حرمین الشریفین کے سائے تلے انجام پائے۔
آج بھی اورنگی ٹاؤن کے پرانے بزرگ ان دنوں کو فخر سے یاد کرتے ہیں جب ان کے محلے کی گلیوں سے گزرنے والا دھاگہ خانہ کعبہ کی زینت بنتا تھا۔ یہ تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جو پاکستان اور حجازِ مقدس کے درمیان محبت کے گہرے رشتے کی گواہی دیتا ہے۔













