امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال کو محدود کرنے پر غور کررہی ہے، جن میں چینی اسٹارٹ اپ مون شاٹ کا جدید ماڈل کِمی کے 3 بھی شامل ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق حکومت چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا، سائبر سیکیورٹی سے متعلق انتباہات جاری کرنا، سرکاری خریداری کے قواعد سخت کرنا اور ایسے احکامات جاری کرنا شامل ہیں جن کے تحت چینی سافٹ ویئر استعمال کرنے والی امریکی کمپنیوں پر سکیورٹی کی ذمہ داری عائد کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی قوم مصنوعی ذہانت پر امریکیوں کی نسبت زیادہ اعتماد کرتی ہے، سروے
رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنیاں کم لاگت اور آسان دستیابی کی وجہ سے چینی اوپن سورس مصنوعی ذہانت ماڈلز استعمال کر رہی ہیں، جس سے امریکا کی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں برتری کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب چینی مصنوعی ذہانت کمپنی مون شاٹ نے کِمی کے تھری متعارف کرایا، جسے دنیا کا سب سے بڑا اوپن ویٹ مصنوعی ذہانت ماڈل قرار دیا جارہا ہے۔
🇺🇸🇨🇳 The Trump administration might be quietly gearing up to ban China's best AI models, and it could hand OpenAI and Anthropic the keys to the kingdom.
Turns out U.S. companies love Chinese open-source models because they're cheap and, thanks to the new Kimi release, nearly as… pic.twitter.com/EIOnNVZqRL
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) July 20, 2026
اس ماڈل میں 2.8 ٹریلین پیرامیٹرز شامل ہیں اور اس کی کارکردگی نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے اداروں کے ماڈلز کو سخت مقابلہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا چینی ایپ ڈیپ سیک مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب ہے؟
رپورٹس کے مطابق کِمی کے تھری نے حال ہی میں 15 اہم سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی اور انہیں درست کرنے میں کامیابی حاصل کی، جبکہ کچھ دیگر مصنوعی ذہانت نظام حفاظتی پابندیوں کے باعث ایسا نہیں کر سکے۔
دوسری جانب علی بابا کے حصص میں بھی اضافہ دیکھا گیا جب کمپنی نے اپنے نئے اوپن ویٹ مصنوعی ذہانت ماڈل کوین تھری پوائنٹ ایٹ میکس کا پیش نظارہ جاری کیا۔
ماہرین کے مطابق چینی مصنوعی ذہانت ماڈلز کی بڑھتی صلاحیتیں سائبر سکیورٹی خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے باعث پابندیوں کی حمایت بھی کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز تک غیر ملکی رسائی محدود کرنے پر غور
تاہم امریکی صدر کی سائنس و ٹیکنالوجی مشاورتی کونسل کے سربراہ ڈیوڈ سیکس سمیت بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی پابندیاں جدت کو متاثر کر سکتی ہیں اور امریکا کو مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں کمزور بنا سکتی ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر چینی ماڈلز بعض کام بہتر انداز میں انجام دے سکتے ہیں تو امریکی ماڈلز کے استعمال کو محدود کرنا مسابقت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔













