اطہر من اللہ صاحب نے ایک کالم لکھا کہ وکلا اب تحریک کیوں نہیں چلا رہے اور ہمارے پیارے علی احمد کرد لبیک کہتے ہوئے میدان میں آ گئے اور وکلا تحریک کا اعلان کر دیا۔ کرد صاحب وکیل ہیں، اگر عاشق ہوتے تو یقینا مجنوں ہوتے، لیلیٰ بھلے ان سے فرمائش کرتی نہ کرتی، ہر شام وہ اس کے لیے تارے توڑ کر لاتے۔
معلوم نہیں، وہ کالم فرمائشی پروگرام تھا یا یہ مبینہ وکلا تحریک کسی فرمائش پر گھونگھٹ اٹھا رہی ہے، لیکن ایک بات ہے: وہ زمانے ہوا ہوئے جب پسینہ گلاب تھا اور وکلا تحریکیں چلا کرتی تھیں۔ ابھی تو خلق خدا پچھلی وکلا تحریک کے نتائج سے پناہ مانگتی پھر رہی ہے، اور ادھر ہمارے بقلم خود قائدین کو نئی تحریک زور سے آ گئی ہے۔ معلوم نہیں یہ قائدین سادہ بہت ہے یا ہشیار بہت؟
اطہر من اللہ صاحب سے کوئی پوچھے، پچھلی وکلا تحریک نے کون سے چاند چڑھا لیے تھے کہ اب ایک نئی تحریک چلائی جائے۔ کون سا وعدہ تھا جو پورا کیا گیا؟
چیف جسٹس کے ترجمان یہاں جج بن گئے اور خلق خدا کی قسمت میں وہی اندھیرے رہے۔ سوموٹو کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ سموسوں اور چپل کبابوں سے لے کرعتیقہ اوڈھو کے بیگ تک سوموٹو دندناتا پھرتا رہا لیکن جب ارسلان افتخار کی بات آئی تو قانون و انصاف کا سارا طنطنہ جاتا رہا۔ ترجمانی سے جج بننے والے اطہر من اللہ کیا ہمیں بتا سکتے ہیں کہ ارسلان افتخار کا معاملہ کہاں پہنچا؟
تحریک وکلا میں، صف نعلین میں، میں بھی کہیں کھڑا تھا۔ ایسی راتیں بھی آئیں کہ بخار میں جسم کپکپا رہا تھا لیکن میں گھر نہیں گیا، تحریک کا حصہ بنا رہا۔ جس روز سپریم کورٹ نے افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس خارج کیا، کورٹ روم نمبر ون سے علی احمد کرد کو کندھے پر بٹھا کر باہر میں ہی لایا، ہم پلکوں میں خوابوں کی حدت لے کر باہر نکلے تھے، ترجمانوں کو جج بنوانے نہیں نکلے تھے۔ یہ ساری تحریک سراب ثابت ہوئی ۔ یہ ریت کا تاج محل تھا، یہ پانیوں پر کی گئی کشیدہ کاری تھی، یوں لگا جیسے ہمارے ساتھ دھوکا ہو گیا ہو۔ یہ تحریک ایک سوال ہے، اس کی قیادت بھی سوال ہے اور اس کی شان نزول بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس کی کامیابی بھی ایک سوال ہے۔
تحریک کامیاب ہوئی اور قیادت نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، حد ادب اور خوف سے سہمی عوام نے کبھی پلٹ کر سوال نہیں کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسند ارشاد سے انہیں روز بھاشن دیے جائیں۔ عالی جاہ ابھی پچھلی تحریک کے آزار کے حساب باقی ہیں۔ گرامی قدر آپ ابھی وقت کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ آپ نئی تحریک کی آواز نہ لگائیں، ابھی آپ آئینہ دیکھیں اور اس کی زبان سمجھیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
کس سادگی سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ وکلا تحریک کیوں نہیں چلاتے۔ مجھے جارج بش یاد آگئے، ایسی ہی معصومیت ان کے لہجے میں بھی تھی جب انہوں نے پوچھا: لوگ امریکا سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟
ویسے یہ اطہر من اللہ صاحب کے گھر سے اسلام آباد بار ایسو ایشن کتنی دور ہے؟ یہ سوال اخباری کالم میں اٹھانے کے بجائے کسی دن اسلام آباد بار تشریف لے جائیں اور وہاں براہ راست وکلا سے پوچھ لیں کہ تم تحریک کیوں نہیں چلاتے۔ پھر دیکھتے ہیں کیسا جواب آتا ہے۔ چاؤ اترتے ہیں یا نہیں۔ یہ وکلا ہیں صاحب، کسی کے مزارعے نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ جو حسن سلوک کیا گیا ہے اس کے بعد تحریک وکلا کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے وقت پیری شباب کی باتیں۔
علی احمد کرد بھی مزے کے آدمی ہیں، دوست ہیں اور پیارے دوست ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وکلا کی تحریک کا اعلان انہوں نے کس حیثیت میں کرلیا؟ ان کے پاس وکلا کی کس تنظیم کا کون سا عہدہ ہے؟
کیا علی احمد کرد کو معلوم نہیں کہ وکلا کے فیصلے کہاں ہوتے ہیں؟ یہ فیصلے کسی سابق جج کی بارگاہ یا کسی وکیل کے چیمبر میں نہیں ہوتے، یہ فیصلے وکلا کی منتخب تنظیمیں کرتی ہیں۔ علی احمد کرد کے پاس کیا مینڈیٹ ہے کہ وہ وکلا تحریک کا اعلان کریں؟
کیا انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ بار ایسوسی ایشنز ان کے راجواڑے ہیں اور یہاں جتنے بھی وکیل رہتے ہیں وہ علی احمد کرد اور ان کے ہمنواؤں کے مزارعین پیں؟ علی احمد کرد کیا خود کو وکلا کا تاحیات آمر مطلق یا بادشاہ سلامت سمجھتے ہیں کہ وہ حکم دیں اور ملک بھر کے وکیل شاہ معظم کا اقبال بلند ہو کی صدائیں لگاتے دربار میں حاضر ہو جائیں۔
صاحب گزر گئے وہ زمانے جب وکلا تحریکیں چلتی تھیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے سیکریٹری نے پچھلے سال کہا تھا کہ جج اپنی لڑائیاں خود لڑیں۔ رات میں نے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر برادرم چودھری نعیم گجر سے سوال کیا، کیا آپ تحریک چلا رہے ہیں تو انہوں نے کہا: تحریک، کون سی تحریک، ان کی تحریک کی تو میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
نعیم گجر کے سخن ہائے گفتنی کو میں ناگفتہ ہی چھوڑ دیتا ہوں، خلاصہ البتہ یہ تھا کہ: کوئی تحریک نہیں چلے گی، ایڑی کا زور لگا لیں یا چوٹی کا یا جملہ اعضائے رئیسہ کا۔ تحریک نہیں چلے گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













