قاسم کے ابا” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، آخر یہ قاسم کے ابا ہیں کون؟

ہفتہ 3 جون 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا نام نہ چلانے پرغیراعلانیہ پابندی کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو مختلف ناموں سے پکارنا شروع کردیا ہے۔

یہ سلسلہ 30 مئی 2023 کو اس وقت شروع ہوا جب الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ایک حکم نامہ تمام اداروں کو بھجوایا گیا، جس میں نفرت انگیز مواد چلانے اور نفرت پھیلانے والوں کی باتوں کو نشر کرنے سے منع کیا گیا ہے، تاہم اس خط میں کسی شخصیت کا نام نہیں لیا گیا۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایسی ہی پابندیاں ماضی میں جب موجودہ حکومت اپوزیشن میں تھی تو ان پر عمران خان نے عائد کی تھیں اور اب عمران خان پر پابندیاں عائد ہورہی ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان سب کا تدارک ہونا چاہیے۔ آزادی اظہار رائے کے لیے یہ پابندیاں نقصان دہ ہیں۔

ان پابندیوں کے تناظر میں تقریباً تمام چینلز عمران خان کی تصاویر، ویڈیوز اور ٹکرز نشر کرنے سے گریز کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس بات کی تصدیق عمران خان نے بھی کی جب انہوں نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک تقریب میں کہا کہ میرا نام نہیں چلا سکتے تو “قاسم کے والد” کہہ دیا کریں۔

عمران خان کے اس بیان کے بعد سے سوشل میڈیا پر “قاسم کے ابا’ کے نام سے ایک ٹرینڈ بھی چل رہا ہے جس میں تحریک انصاف کے حامی عمران خان سے متعلق ٹوئٹس کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما و سابق مشیر شہباز گل نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اس وقت #قاسم کےابا کی مقبولیت کا لیول یہ ہے کہ اگر وہ نواز شریف کو ٹکٹ دیں تو وہ بھی جیت جائے۔

افشاں نامی صارف نے عمران خان  کے خطاب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کی ٹرولنگ کے لیول کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔

پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے لکھا قاسم اور سلیمان کے والد کی مقبولیت میں عوام میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔ یہ 70% سے بھی زیادہ ہے ماشااللّہ۔

 

ایک صارف نے تو ٹویٹر پر اپنا نام ہی بدل کر قاسم کے ابا رکھ لیا۔


ایک خاتون صارف نے قاسم کے ابا کا فین اکاونٹ بنا لیا اور نام بدل کر قاسم کے ابا فین گرل رکھ لیا اور نام بدلتے وقت کا اسکرین شاٹ لے کر ٹویٹ کر دیا۔

 

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp