یورپ میں بلوچستان کے حوالے سے کانفرنس: متنازع بیانیے اور شرکا پر سوالات اٹھ گئے

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپ میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیر اہتمام ’بلوچستان: 78 سالہ قبضہ‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں شرکاء کے کردار اور پیش کیے گئے بیانیے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 27 مارچ کو منعقدہ اس کانفرنس کی قیادت نسیم بلوچ نے کی، جبکہ مبصرین کے مطابق یہ فورم ایک متوازن تاریخی بحث کے بجائے مخصوص بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد ہلاک

کانفرنس میں شریک شخصیات میں اختر مینگل بھی شامل تھے، جو ماضی میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وہ صوبے کی سیاسی قیادت کا حصہ رہے ہیں، اس لیے گورننس، وسائل کے استعمال اور ترقیاتی مسائل میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح منظور پشتین کی شرکت بھی توجہ کا مرکز بنی، جن کی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کو 2024 میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان کا بیانیہ متنازع اور یک طرفہ سمجھا جاتا ہے، جس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

دیگر شرکاء میں عائشہ صدیقہ اور ثقلین امام بھی شامل تھے، جن کے حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ شخصیات اکثر بین الاقوامی فورمز پر ریاستی پالیسیوں پر تنقیدی مؤقف رکھتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجتماع تاریخی حقائق کی غیر جانبدارانہ تشریح کے بجائے عالمی سطح پر مخصوص تاثر قائم کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے، جس کا مقصد بیرون ملک رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا

تاریخی تناظر میں ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 27 مارچ 1948 کو ریاست قلات نے پاکستان سے الحاق کیا تھا۔ اس وقت قلات برطانوی راج کے تحت ایک ریاست تھی، جس کے دفاع، خارجہ امور اور مواصلات برطانیہ کے کنٹرول میں تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ریاستوں کے پاس پاکستان یا بھارت سے الحاق کا اختیار تھا، جبکہ مکمل آزادی ایک قابل عمل قانونی راستہ نہیں تھا۔

مزید برآں، قلات کے الحاق سے قبل برٹش بلوچستان کے کئی علاقے پہلے ہی پاکستان میں شامل ہو چکے تھے، جبکہ لسبیلہ، خاران اور مکران نے بھی رضاکارانہ طور پر الحاق کیا۔ گوادر بعد میں 1958 میں عمان سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا گیا۔

دفاعی و سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض تنظیمیں، جن میں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ جیسے گروہ شامل ہیں، اس الحاق کو متنازع بنا کر پیش کرتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس بیانیے کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے بیانیے خطے کی صورتحال کو پیچیدہ بنانے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے تاریخی حقائق کو متوازن انداز میں پیش کرنا ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟