بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے نئے پولیس افسران پر زور دیا ہے کہ وہ عوام دوست اور اصلاحات پر مبنی پولیس فورس کے قیام میں کردار ادا کریں، جبکہ ملک میں قانون نافذ کرنے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے راجشاہی میں بنگلہ دیش پولیس اکیڈمی میں 43ویں بی سی ایس (پولیس) بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک ’تاریخی تبدیلی‘ کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے نوجوان افسران پر زور دیا کہ وہ انصاف اور عوام کے اعتماد کو یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کی پولیس میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، 5 ایڈیشنل آئی جیز کو ریٹائر کر دیا گیا
وزیر داخلہ نے 2024 کی طلبہ تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی قربانیوں نے ’نئے بنگلہ دیش‘ کی بنیاد رکھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد ہو کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ایک مضبوط اور خودمختار پولیس ریفارم کمیشن کے قیام پر کام کر رہی ہے، جہاں بھرتیوں، تبادلوں اور ترقیوں میں میرٹ اور سینیارٹی کو ترجیح دی جائے گی۔
صلاح الدین احمد نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ خود کو عوام کا خادم سمجھیں۔
انہوں نے کہا کہ پرانے نوآبادیاتی دور کے قوانین کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق پولیس کو مجرموں میں خوف اور بے گناہوں میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں پولیس فورس کی تنظیمِ نو، جاپان سے مدد طلب
وزیر داخلہ نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائبر کرائم سے نمٹنے کی مہارت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے نئے پولیس افسران کو قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ’تبدیلی کے نمائندے‘ قرار دیا اور انہیں دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور جوابدہی کو اپنانے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، چاہے وہ سیاسی کارکن ہوں یا عام کسان۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ حکومت پولیس یونیفارم میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے، کیونکہ موجودہ وردی سے مکمل اطمینان نہیں۔
تقریب میں 72 زیر تربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس نے ایک سالہ تربیت مکمل کی۔
نمایاں کارکردگی پر مختلف افسران کو اعزازات بھی دیے گئے، جن میں فہیم فیصل کو بہترین پروبیشنر اور بہترین تعلیمی کارکردگی کے ایوارڈز ملے۔
پاسنگ آؤٹ کے بعد نئے افسران کو ملک بھر میں چھ ماہ کی عملی تربیت کے لیے تعینات کیا جائے گا تاکہ وہ میدان میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔
بنگلہ دیش میں پولیس نظام کو جدید اور عوام دوست بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس میں نئے افسران کو مرکزی کردار دیا جا رہا ہے۔













