عالمی سطح پر قیام امن کی کوششوں میں نظر انداز کیے جانے اور بین الااقوامی سفارت کاری میں تنہا رہ جانے کے بعد بھارت اب اپنی خفت مٹانے کے لیے معمول کی ملاقاتوں کو خاص رنگ دے کر پیش کرنے لگا ہے۔
ایسی ہی ایک کوشش بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے کی گئی ہے جب انہوں نے 27 مارچ 2026 کو فرانس میں جی 7 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائنز پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ہونے والی ایک ملاقات کی تصاویر کو ایک خاص ملاقات بنا کر پیش کیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسا تاثر دیا جیسے وہ بہت اہم مذاکرات کا حصہ بن گئے ہوں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے بھارت اپنی اہمیت جتانے کی ناکام کوشش کررہا ہے، کیونکہ جاری سفارتی عمل میں اس کا کوئی کردار نہیں، اور وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہا ہے۔
بھارت خلیجی سفارت کاری سے جڑا رہنے اور یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ سعودی بیانات نئی دہلی کو نظرانداز نہ کریں۔
لیکن درحقیقت بھارت بین الاقوامی سفارتکاری میں نہ صرف بہت پیچھے رہ گیا بلکہ عالمی تنہائی کا بھی شکار ہو چکا ہے، جبکہ اس کے برعکس دنیا کی تمام بڑی طاقتیں عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کے کردار کو سراہ رہی ہیں اور سعودی عرب بھی پاکستان کو سفارتکاری میں مرکزی عنصر کے طور پر دیکھ رہا ہے۔














