اقوامِ متحدہ نے سعودی عرب کی جانب سے ایک ملین ہیکٹر بنجر زمین کی بحالی کے اہم ماحولیاتی سنگِ میل کو سراہتے ہوئے اسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ کامیابی عالمی ماحولیاتی اہداف کے عین مطابق قرار دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی پانی کے عالمی مسائل میں قیادت، اہم کردار کی عکاس
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یواین کنونشن ٹو کمبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن کی ایگزیکٹو سیکریٹری یاسمین فواد نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے مربوط حکمتِ عملی اور واضح عزم کے ذریعے عملی میدان میں نمایاں تبدیلی دکھائی ہے۔
ان کے مطابق یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل ترین ماحولیاتی حالات میں بھی زمین کی بحالی ممکن ہے۔
Saudi Arabia Restores First Million Hectares of Degraded Land under Saudi Green Initiative.https://t.co/GuvPsd8RsW#SPAGOV pic.twitter.com/mk5erZ8w67
— SPAENG (@Spa_Eng) March 27, 2026
انہوں نے سعودی عرب کی قیادت کو مشرقِ وسطیٰ گرین انیشی ایٹو اور گلوبل لینڈ انیشی ایٹو جیسے عالمی منصوبوں میں فعال کردار ادا کرنے پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مملکت نے نہ صرف عالمی سطح پر ماحولیاتی اہداف کے لیے عزم کو مضبوط کیا بلکہ اجتماعی اقدامات کو بھی فروغ دیا ہے۔
یاسمین فواد کے مطابق بنجر زمین کی بحالی صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ترقیاتی اور انسانی ہمدردی کا اہم سنگِ میل بھی ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی وادی الحمضہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی
’اس طرح کے اقدامات سے خوراک کی فراہمی بہتر ہوتی ہے، مقامی معیشت کو سہارا ملتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں معیارِ زندگی میں بہتری آتی ہے۔‘
فواد نے کہا کہ ایک ملین ہیکٹر زمین کی بحالی محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کو تیزی سے بڑھتی زمین کی خرابی اور خشک سالی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی نے حکومت، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے درمیان مضبوط شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جبکہ کثیرالجہتی تعاون کو بامعنی تبدیلی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
مزید پڑھیں: اصلاحات رنگ لے آئیں، سعودی عرب کی خوشی کے عالمی انڈیکس میں نمایاں ترقی
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب نے قدرتی حل، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے ماحولیاتی نظام کی بحالی کا ایک عالمی ماڈل پیش کیا ہے۔
’یہ تمام اقدامات سعودی گرین انیشی ایٹو کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا، حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینا اور وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا ہے۔‘
یاسمین فواد نے کہا کہ یہ کامیابی ایک طویل سفر کا اہم مرحلہ ہے جس کے لیے مسلسل عزم، تیز رفتار اقدامات اور وسیع تر شراکت داری کی ضرورت ہے، جبکہ زمین کی بحالی دراصل انسانیت، استحکام اور ایک پائیدار و خوشحال مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔












