سعودی عرب، قطر اور اردن کے رہنماؤں نے جدہ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے اثرات، بین الاقوامی سمندری آمدورفت کی آزادی کو لاحق خطرات اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے سعودی عرب پر حملے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہیں، علما کا مؤقف
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی میزبانی میں پیر کے روز منعقدہ اس اجلاس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے شرکت کی۔
🎥 | Under HRH the Crown Prince Mohammed bin Salman’s Leadership, Diplomatic Efforts Reinforce Regional Security, Stability, and Joint Coordination to Address Regional Challenges#AlEkhbariyaEN
— AlEkhbariya News (@alekhbariyaEN) March 30, 2026
اجلاس کے دوران خطے میں کشیدگی کے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات اور علاقائی سلامتی و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور خطے میں امن پر زور
رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن پر ایران کی جانب سے جاری حملے، جن میں اہم اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایک خطرناک شدت اختیار کر چکے ہیں جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب ایران کی جانب سے سعودی عرب، قطر اور اردن کو ڈرونز اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ٍ













