پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جہاں ہر شعبۂ زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں آن لائن کیب سروس سے وابستہ ڈرائیورز بھی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
فیول کی قیمتوں میں اضافے نے ان کے روزگار کو براہِ راست متاثر کیا ہے، جس کے باعث ان کی آمدن میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
کیب ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ پہلے وہ روزانہ 10 سے 12 رائیڈز آسانی سے مکمل کر لیتے تھے، مگر اب بڑھتے کرایوں اور کم ہوتی ڈیمانڈ کے باعث یہ تعداد کم ہو کر 5 یا 6 رہ گئی ہے۔
ان کے مطابق آمدن تقریباً آدھی ہو چکی ہے، جبکہ ایندھن، گاڑی کی مرمت اور دیگر اخراجات دگنے ہو گئے ہیں، جس سے مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈرائیورز کا مزید کہنا ہے کہ زیادہ کرایوں کی وجہ سے مسافر اب کیب بُک کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یومیہ کمائی متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب مسافر بھی اس صورتحال سے نالاں نظر آتے ہیں اور سستے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اس سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی حالت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اگر فیول کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔













