پاکستان تحریک انصاف کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر نے اسمبلی اجلاس کے دوران اپنی ہی صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ 50 لاکھ گھروں اور 10 لاکھ نوکریوں کے وعدے، نیز سیاحت اور آئی ٹی کے منصوبے کہاں گئے۔
مزید پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب اسمبلی اجلاسوں میں غیر حاضری کی وجہ کیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں حقائق بیان کرنے پر مشیر خزانہ مزمل اسلم ناراض ہوگئے تھے۔
عبدالکریم تورڈھیر نے الزام لگایا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) سے ان کے حلقے کی اسکیمیں نکال دی جاتی ہیں اور ترجیحات کے تعین میں امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پک اینڈ چوز کی پالیسی ختم کر کے سب کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضلع صوابی صوبے میں سب سے زیادہ آمدن دینے والے اضلاع میں شامل ہے مگر اس کے باوجود وہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ان کے مطابق کرک میں کینسر کے کیسز بڑھ رہے ہیں لیکن وہاں اے گریڈ اسپتال موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے الیکشنز ترمیمی بل 2026 مسترد کردیا، اثاثے چھپانا جمہوریت پر حملہ قرار
رکن اسمبلی نے کہا کہ صوبہ سستی بجلی پیدا کر رہا ہے مگر نظام کو اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا، جبکہ دریاؤں میں غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مؤثر قانون سازی کی جائے اور عوام کو ان کے حقوق فراہم کیے جائیں، بصورت دیگر گڈ گورننس صرف دعوؤں اور پریزنٹیشنز تک محدود رہے گی۔














