پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے سعودی عرب کے کردار کو سراہا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خارجہ پالیسی سے متعلق معاہدوں اور مذاکرات کو پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے ’وی نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش موجود ہے، تاہم مسلم دنیا کی جانب سے ردعمل کے بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ قابلِ تحسین ہے۔
یہ بھی پڑھیے سعودی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے سعودی عرب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ذمہ داری اور بردباری کا مظاہرہ کیا، جو خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات تاریخی اور فطری نوعیت کے حامل ہیں، اور پاکستان ہمیشہ حرمین شریفین کے احترام اور تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور سفارتی مذاکرات کو پارلیمان کے سامنے پیش کرے تاکہ قومی سطح پر اعتماد اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے سعودی وزیرخارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، خادم حرمین شریفین کا پیغام پہنچایا
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی جیسے اہم معاملات میں پارلیمان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے، اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بناتا رہے گا۔













