اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے 2025 میں 6.213 ٹریلین روپے کی ریکارڈ ریکوری کو سراہتے ہوئے ادارے کی کارکردگی اور اصلاحات کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
یہ اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں نذیر احمد سے ملاقات کے دوران کیا، جہاں چیئرمین نیب نے انہیں ادارے کی سالانہ رپورٹ 2025 پیش کی۔
یہ بھی پڑھیے جائیداد کے شعبے میں شفافیت کے لیے قومی احتساب بیورو کا آن لائن نظام متعارف
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نیب نے 1999 میں اپنے قیام کے بعد پہلی بار ایک سال میں سب سے زیادہ ریکوری کی، جبکہ گزشتہ 3 برسوں میں مجموعی ریکوریز 11.524 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 2025 کی ریکوری گزشتہ 23 برسوں کی مجموعی کارکردگی کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔
انہوں نے نیب کی 72 فیصد پراسیکیوشن کامیابی کی شرح کو بھی سراہتے ہوئے اسے ادارے کے مؤثر ہونے کا اہم ثبوت قرار دیا۔ اس کے علاوہ تقریباً 2.98 ملین ایکڑ سرکاری و جنگلاتی اراضی واگزار کرانے کو بھی نمایاں کامیابی قرار دیا گیا، جس کی مالیت 5.98 ٹریلین روپے بنتی ہے۔
اسپیکر نے عوام دوست اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے فراڈ پر مبنی ہاؤسنگ اور سرمایہ کاری اسکیموں سے متاثرہ 115,587 افراد کو 180 ارب روپے کی ادائیگی کے ذریعے ریلیف فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھیے 2025 میں 6 کھرب روپے سے زیادہ کی ریکوری کی، چیئرمین نیب نے سالانہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی
ملاقات کے دوران چیئرمین نیب نے ادارہ جاتی اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شفافیت اور سہولت کے فروغ کے لیے مختلف طبقات، بشمول اراکین پارلیمنٹ، بیوروکریسی، کاروباری برادری اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں نیب نے ’نیب ای آفس‘ سسٹم متعارف کرایا، جس کے تحت پیپر لیس نظام نافذ کیا گیا، جبکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تحقیقات کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔
آخر میں چیئرمین نیب نے احتساب کے عمل میں پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔














