فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران محصولات کی مد میں 610 ارب روپے کے بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مزید پڑھیں:ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کر دی
ایف بی آر نے اس عرصے میں 9,307 ارب روپے جمع کیے، جبکہ مقررہ ہدف 9,917 ارب روپے تھا۔ اس سے قبل پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) میں خسارہ 428 ارب روپے تھا، تاہم صرف مارچ 2026 میں یہ فرق مزید 182 ارب روپے بڑھ گیا۔
سینیئر حکام کے مطابق، محصولات میں کمی کی ایک بڑی وجہ درآمدات میں نمایاں کمی ہے، جو امریکا اسرائیل ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی جغرافیائی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ مارچ میں درآمدی ٹیکسوں میں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، جبکہ فروری تک اس مد میں قریباً 18 فیصد اضافہ ہو رہا تھا۔
مزید برآں، ایل این جی کی فراہمی میں خلل کے باعث کھاد بنانے والے کارخانوں سمیت کئی صنعتی یونٹس کی پیداوار متاثر ہوئی، جس سے مارچ میں اندازاً 40 ارب روپے کے محصولات کا نقصان ہوا۔
ایک اور اہم وجہ ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی ہے، جو مارچ میں 61 ارب روپے رہی، جبکہ فروری میں یہ 34 ارب روپے تھی۔ ان تمام عوامل نے مجموعی محصولات پر منفی اثر ڈالا۔
ان مشکلات کے باوجود، مجموعی ٹیکس وصولیوں میں 10.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 8,122.2 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ اس میں براہ راست ٹیکسوں میں 12.2 فیصد اور بالواسطہ ٹیکسوں میں 9.1 فیصد اضافہ شامل ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں میں سیلز ٹیکس 10 فیصد، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 14 فیصد اور کسٹمز ڈیوٹی 3.8 فیصد بڑھی۔
مزید پڑھیں:ایف بی آر کا بحریہ ٹاؤن کی ایک اور پراپرٹی نیلام کرنے کا اعلان
مارچ 2026 میں عارضی طور پر 1,185 ارب روپے اکٹھے کیے گئے، جبکہ ہدف 1,367 ارب روپے تھا، یوں صرف اس مہینے میں 182 ارب روپے کا خسارہ رہا۔
اب 30 جون 2026 تک ہدف حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کو آئندہ 3 ماہ (اپریل تا جون) میں 4,672 ارب روپے جمع کرنا ہوں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں یہ ہدف حاصل کرنا نہایت مشکل دکھائی دیتا ہے اور مالی سال کے اختتام تک مزید خسارے کا خدشہ ہے۔














