وفاقی آئینی عدالت میں عمران خان رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے 10 روز میں جواب طلب کر لیا۔
سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت: 18 سال سے کم عمر مسیحی لڑکی کی مسلمان لڑکے سے شادی درست قرار
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی حدود سے متصادم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مختلف دستاویزات اور شواہد عدالت میں پیش کیے جبکہ تھریٹ سے متعلق اخباری آرٹیکلز کا حوالہ بھی دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے۔ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ کابینہ کی جانب سے ایسی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان رہائی فورس کے خدوخال پر غور ہوگا، پارٹی کسی ملیشیا پر یقین نہیں رکھتی، بیرسٹر گوہر
عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سزا یافتہ افراد کے لیے ایسی فورس کی تشکیل پر سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں۔
سماعت کے دوران وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کا مقابلہ ‘ڈاکوؤں’ سے ہے، تاہم عدالت نے اس حوالے سے مزید وضاحت طلب کر لی ہے۔
کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔














