اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی نئی شدید امتیازی سزائے موت کی قانون سازی کو فوری طور پر واپس لے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا۔
وولکر ترک کا کہنا تھا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری انتہائی مایوس کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی پارلیمنٹ کا متنازع قانون منظور، فلسطینیوں کے لیے سزائے موت متعارف
ان کے مطابق اگر اس قانون کا اطلاق امتیازی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے رہائشیوں پر اس کا نفاذ جنگی جرم تصور کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کے نئے قانون کے خلاف مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس قانون کے تحت مغربی کنارے میں فوجی عدالتوں سے دہشتگردی کے مقدمات میں سزا پانے والے فلسطینیوں کے لیے پھانسی کو لازمی سزا قرار دیا گیا ہے۔
#Israel’s new law reinstating the death penalty, almost exclusively to Palestinians, is deeply discriminatory & must be repealed.
It is patently inconsistent with Israel’s international law obligations, including in relation to the right to life – UN Human Rights Chief… pic.twitter.com/9WDWIgiQKY
— UN Human Rights (@UNHumanRights) March 31, 2026
قانون میں اپیل کے مواقع محدود کر دیے گئے ہیں، معافی یا سزا میں نرمی کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے، اور یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ حتمی فیصلے کے 90 دن کے اندر سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
جبکہ وزیراعظم کی خصوصی منظوری کی صورت میں یہ مدت 180 دن تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
وولکر ترک نے کہا کہ 90 دن کی یہ حد خود بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ عالمی قوانین کے مطابق سزا میں معافی یا رعایت کی گنجائش ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کا نیا قانون، عالمی سطح پر شدید ردعمل
ان کے مطابق یہ قانون زندگی کے حق سمیت اسرائیل کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم ہے اور اس میں منصفانہ عدالتی عمل پر بھی سنگین خدشات موجود ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں سزائے موت ختم کر دی تھی، تاہم نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور غداری جیسے جرائم کے لیے یہ قانون برقرار تھا۔
انہی قوانین کے تحت 1962 میں ہولوکاسٹ کے مرکزی منتظم ایڈولف آئخمن کو سزائے موت دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا قانون قابل مذمت، آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، علامہ طاہر اشرفی
یہ نیا بل گزشتہ سال دائیں بازو کے اسرائیلی قانون سازوں نے غزہ جنگ کے دوران پیش کیا تھا اور حال ہی میں اسے قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے کنیسٹ میں پیش کیا گیا۔
دوسری جانب یورپی یونین نے بھی اس قانون کو اسرائیل کے سابقہ مؤقف سے سنگین انحراف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
اسرائیل میں اس قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے دہشتگردی کی روک تھام میں مدد ملے گی اور قومی سلامتی مضبوط ہوگی،
مزید پڑھیں: نیتن یاہو نے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے بل کی حمایت کردی
تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے نائب ڈائریکٹر ایڈم کوگل کا کہنا ہے کہ یہ قانون امتیاز کو مزید گہرا کرے گا اور دوہرا عدالتی نظام قائم کرے گا، جو نسلی امتیاز کی علامت ہے۔
ان کے مطابق اپیل کے محدود مواقع اور 90 دن میں پھانسی کی شرط اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس قانون کا مقصد فلسطینی قیدیوں کو کم نگرانی کے ساتھ جلد از جلد سزائے موت دینا ہے۔














