اسرائیلی پارلیمنٹ کا متنازع قانون منظور، فلسطینیوں کے لیے سزائے موت متعارف

پیر 30 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ نے ایک متنازع قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت مہلک حملوں میں ملوث قرار دیے جانے والے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی ہے۔ اس اقدام پر یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا

گارڈین کے مطابق مذکورہ قانون کے ذریعے مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی عدالتوں کی جانب سے دہشتگردی قرار دیے جانے والے جان لیوا حملوں میں ملوث فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا بنایا گیا ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت پانے والے افراد کو علیحدہ حراستی مراکز میں رکھا جائے گا جہاں انہیں صرف مجاز اہلکاروں سے ملاقات کی اجازت ہوگی جبکہ قانونی مشاورت بھی ویڈیو لنک کے ذریعے ہوگی۔ سزائے موت پر عملدرآمد 90 دن کے اندر کیا جائے گا۔

اسرائیل میں سزائے موت کا استعمال انتہائی کم رہا ہے اور آخری بار سنہ 1962 میں نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمان کو پھانسی دی گئی تھی۔

وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر۔

اس قانون کے بڑے حامی اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر ہیں جنہوں نے پھانسی کو ممکنہ طریقہ قرار دیا ہے، جبکہ دیگر آپشنز میں الیکٹرک چیئر یا دیگر طریقے بھی زیرِ غور بتائے گئے ہیں۔

اس قانون کے تحت عدالتیں استغاثہ کی درخواست کے بغیر بھی سزائے موت سنا سکیں گی اور اس کے لیے ججز کی متفقہ رائے ضروری نہیں ہوگی بلکہ سادہ اکثریت کافی ہوگی۔

مزید پڑھیے: سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

یہ قانون فلسطینیوں کے لیے اپیل یا رحم کی درخواست کے امکانات کو بھی محدود کر دیتا ہے جبکہ اسرائیل کے اندر مقدمات کا سامنا کرنے والے قیدیوں کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔

قانون کی مذمت

یہ بل دائیں بازو کی جماعت اوٹزما یہودیت کی جانب سے پیش کیا گیا جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل کی تعزیری پالیسی میں خطرناک اضافہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقِ زندگی کی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس قانون سے سزائے موت کے استعمال میں اضافہ ہوگا اور یہ خاص طور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے بھی اس قانون پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کے جمہوری اصولوں سے متعلق وعدوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:  غزہ میں عید کی روایت زندہ رکھنے کی جدوجہد

ماہرین کے مطابق قانون نافذ ہونے کے بعد بھی اسے اسرائیلی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے جہاں اسے کالعدم قرار دیے جانے کا امکان موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp