ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اور مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے، جبکہ پاکستان نے سفارتکاری اور مذاکرات کو ہی مسائل کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا ہے۔
بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ حالیہ 4 ملکی مشاورت میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعے کے باعث نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ترجمان دفتر خارجہ کا اسرائیلی سفیر کے بیان پر سخت ردعمل، الزامات مسترد
ترجمان کے مطابق ان مشکل حالات میں مسلم اُمہ کا اتحاد انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے آنے والے وفود کو ممکنہ امریکا اور ایران مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا، جن کے انعقاد کے لیے اسلام آباد کو ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو شریک ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کو کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرے کو روکنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ اس موقع پر بات چیت اور سفارتکاری کو ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ قرار دیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔
پاکستان اور چین میں اہم مشاورت، خطے میں امن کے لیے 5 نکاتی منصوبہ پیش
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے تسلسل میں کہا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا، جس میں علاقائی امن اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کے ساتھ پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق یہ دورہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی، عالمی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گہرے مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے طبی مشورے کے باوجود اس دورے میں شرکت کی، جو پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران اور امریکا آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس دورے کے دوران افغانستان سمیت دیگر علاقائی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ایک اہم پیشرفت کے طور پر چین اور پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا۔
اس کے علاوہ جلد از جلد امن مذاکرات کے آغاز، متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، اور مسائل کے حل کے لیے صرف بات چیت اور سفارتکاری کو اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر فوجی اہداف کے تحفظ، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ اس منصوبے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کو بھی دوبارہ تسلیم کیا گیا، جو خطے میں دیرپا امن کے لیے بنیادی اصول ہے۔
ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ اور عالمی رابطے، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے تسلسل میں کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے مشترکہ 5 نکاتی امن منصوبے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ترجمان کے مطابق 5 نکاتی منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں، عملے اور تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، شہریوں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو ممکن بنایا جائے اور اس اہم سمندری راستے کو جلد از جلد معمول کے مطابق کھولا جائے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے اہم ٹیلیفونک رابطے بھی کیے۔ 27 مارچ کو کویت کے ولی عہد نے وزیراعظم سے رابطہ کر کے حملوں کی شدید مذمت کی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ کویتی قیادت نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کے کردار کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔
اگلے روز وزیراعظم نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں انہیں پاکستان کے امن اقدام کی حمایت سے آگاہ کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ مشترکہ کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسلسل سفارتی سطح پر متحرک ہے اور خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کی امن کوششوں کو عالمی حمایت حاصل
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے تسلسل میں کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے کر کے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا، جبکہ ان اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں پر اپنا مؤقف پیش کیا اور مذاکرات و ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار کو بھی تسلیم کیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 31 مارچ کو وزیراعظم کو یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی گفتگو کی، جس میں جی ایس پی پلس کی اہمیت اور آئندہ پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم بھی زیر بحث آیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغان سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی، باجوڑ حملے میں افغان سرزمین کے استعمال پر احتجاج ریکارڈ
ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اہم عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے، جن میں 27 مارچ کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے گفتگو شامل ہے۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ چین نے کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا اور اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اقوامِ متحدہ سمیت کئی ممالک کی حمایت حاصل
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے تسلسل میں کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی سطح پر بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن میں اقوامِ متحدہ، ترکیہ، قطر، انڈونیشیا اور ایران سمیت اہم ممالک کے ساتھ بات چیت شامل ہے، جبکہ ان کوششوں کو عالمی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 27 مارچ کو ترکیہ کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح 28 مارچ کو انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی رابطہ کیا، جس میں عالمی امن و سلامتی پر جاری کشیدگی کے اثرات پر بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے اور پاکستان کے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کا امکان نہیں، دفتر خارجہ
اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کا کردار نہایت اہم ہے اور پاکستان پائیدار امن کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے۔ سیکریٹری جنرل نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
ترجمان نے بتایا کہ اسی روز نائب وزیراعظم نے قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سے بھی گفتگو کی، جبکہ 29 مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے خطے کی صورتحال اور حالیہ پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام رابطے اسلام آباد میں ہونے والے 4 ملکی وزرائے خارجہ اجلاس سے قبل کیے گئے، جن کا مقصد مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا تھا۔
آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کا گزر
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ ایران نے پاکستانی پرچم والے مزید 20 جہازوں کو بحر ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جسے پاکستان نے خوش آئند اقدام اور خطے میں استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے 2 جہاز روزانہ بحر ہرمز سے گزر سکیں گے، جو خطے میں اعتماد کی فضا قائم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے حوصلہ افزا اقدام ہے۔ یہ پیشرفت خطے میں بات چیت اور سفارتی اقدامات کے ذریعے استحکام لانے کی کوششوں میں ایک مثبت سنگ میل ہے۔
اسرائیل کی سختیوں کی مذمت کی
انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کو پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں اسرائیل کی جانب سے یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت میں رکاوٹیں ڈالنے کو سختی سے مسترد کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ یروشلم کے مقدس مقامات کے قانونی اور تاریخی درجہ کو تبدیل نہ کرے اور عبادت گزاروں کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔
یہ بھی پڑھیں:اقوامِ متحدہ غیر جانبدار رپورٹس مرتب کرے اور دہشتگردی کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کو نظر انداز نہ کرے، دفتر خارجہ
ترجمان نے کہا کہ تمام ممالک نے عالمی برادری سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل کے جاری قوانین اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرے تاکہ یروشلم کے مقدس مقامات کی حرمت بحال رہے اور مذہبی رسائی میں رکاوٹیں ختم ہوں۔ یہ اقدامات خطے میں امن، قانونی حیثیت کی حفاظت اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیے گئے ہیں۔













