وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، اور جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کے لیے ہم نے برادر ملک کے طور پر بھرپور کوششیں کیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کیا، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت حکومتی وزرا شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر قیامِ امن کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان
وزیراعظم نے کہا کہ ان کی کوششوں کے بعد آبنائے ہرمز میں پھنسے ہمارے دو جہاز گزر گئے، اور آئندہ دنوں میں مزید 20 جہاز پاکستانی جھنڈے کے ساتھ گزریں گے۔ پاکستان جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان کی معیشت بھی جنگ سے متاثر ہو رہی ہے۔ جنگ شروع ہوتے ہی چاروں صوبوں کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کی گئی، پیٹرول میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کرنا پڑا، تیل کے اخراجات میں کمی کی گئی، 60 فیصد گاڑیوں کو بند رکھا گیا، اور وفاقی کابینہ نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ وقف کر دی۔ انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزرائے اعلیٰ کا ان کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ کو ایران جنگ میں گھسیٹنے نہیں دینگے، برطانوی وزیر اعظم کا دو ٹوک اعلان
وزیراعظم نے کہا کہ وفاق نے 3 ہفتوں میں اخراجات میں کٹوتی کر کے 129 ارب روپے دیے، پی ایس ڈی میں 100 ارب روپے کا کٹ لگایا۔ اشرافیہ کو ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غریبوں کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ زراعت کو تحفظ دینا چاہیے اور پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کی روانی بھی یقینی بنانی چاہیے۔ قومی یکجہتی کے بغیر ان چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں۔













