سپریم کورٹ نے بیٹے کے ہاتھوں باپ کے قتل کے ملزم کی عمر قید کے خلاف اپیل کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، فیصلہ 8 اپریل کو سنایا جائے گا۔
سپریم کورٹ میں باپ کو قتل کرنے والے بیٹے محمد صفدر کی سزا معافی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ فریقین کے درمیان صلح ہوچکی ہے اور اس حوالے سے رپورٹ بھی جمع کرا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹے کی والدین سے ناراضی، پولیس نے معاملہ کیسے حل کیا؟
مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل گزشتہ 14 سال سے قید کاٹ رہا ہے، لہٰذا صلح کے بعد سزا میں نرمی کی جائے۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ باپ کو مارنے والے شخص کے لیے 24 سال قید بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے کیسز کا کوئی مستقل حل نکالنا ہوگا اور عدالت کو ایسا فیصلہ دینا چاہیے جو آئندہ کے لیے رہنمائی فراہم کرے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ قصاص یا دیت کے تحت معافی کی گنجائش موجود ہے، تاہم ایسے سنگین مقدمات میں ملزم کو مکمل کلین چٹ نہیں ملنی چاہیے کیونکہ معاملہ والد کے قتل کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایسا کیا ہوا کہ باپ نے 9 ماہ کے بیٹے کو آگ میں پھینک دیا؟
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ اس طرح کے کیسز کے حل کے لیے اہم عدالتی فیصلہ ضروری ہے اور عدالت اس مقدمے میں فیصلہ دے کر کوئی راستہ نکالے گی۔
عدالت نے قرار دیا کہ کیس کا فیصلہ 8 اپریل کو سنایا جائے گا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ایسا فیصلہ دیا جائے گا جو پاکستان کو ہلا کر رکھ دے گا۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹیوں کے ہاتھوں نذر آتش ہونے والا شخص اسپتال میں دم توڑ گیا
واضح رہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ملزم محمد صفدر پر الزام تھا کہ اس نے گھریلو تنازع اور ذاتی اختلافات کے دوران اپنے والد کو قتل کر دیا۔ واقعہ کئی برس قبل پیش آیا جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا اور ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر اسے عمر قید کی سزا سنائی۔
ملزم نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے۔













