برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوم نے اس سال کی مونڈی سروس کے موقعے پر ایک اہم شاہی روایت توڑ دی جہاں وہ ملکہ کمیلا کے ہمراہ شمالی ویلز میں ایک مشترکہ تقریب میں شریک ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
رپورٹس کے مطابق یہ تاریخی تقریب 2 اپریل 2026 کو سینٹ اساف کیتھیڈرل میں منعقد ہوئی جہاں تقریباً 800 سال بعد پہلی بار مونڈی سروس کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کے دوران کنگ چارلس روایتی سیاہ مارننگ کوٹ، ویسٹ کوٹ اور دھاری دار پتلون میں نہایت وجیہہ دکھائی دیے جبکہ ملکہ کمیلا نے نیوی بلیو رنگ کا خوبصورت کوٹ اور میچنگ ہیٹ پہن کر سب کی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے اپنے انداز کو ہینڈ بیگ اور جوتوں کے ساتھ مزید نکھارا۔
عیسائی روایت کے مطابق کنگ چارلس نے تقریب کے دوران مقامی افراد میں ’مونڈی منی‘ تقسیم کی۔ روایت کے تحت انہوں نے اپنی عمر کے برابر افراد کو یہ تحائف دیے یعنی 77 مردوں اور 77 خواتین کو 2 تھیلیاں (ایک سرخ اور ایک سفید) پیش کی گئیں۔
مزید پڑھیں: اسکاٹ لینڈ میں شاہ چارلس کے نئے پورٹریٹ کی نقاب کشائی، ہمشیرہ شہزادی این جذباتی ہو گئیں
یاد رہے کہ کنگ چارلس گزشتہ سال 2024 میں اپنی بیماری یعنی کینسر کی تشخیص کے باعث اس تقریب میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔
یہ تقریب شاہی خاندان کے ایسٹر اجتماع سے چند دن قبل منعقد ہوئی جو اتوار کے روز ونڈسر کے سینٹ جارج چیپل میں ہوگا جہاں شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن سمیت دیگر اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
روایت کون سی توڑی گئی؟
مونڈی سروس ایک قدیم شاہی اور عیسائی روایت ہے جو ہر سال ایسٹر سے پہلے جمعرات کو منائی جاتی ہے۔ اس میں بادشاہ یا ملکہ مقامی افراد میں ’مونڈی منی‘ تقسیم کرتے ہیں۔ روایتی طور پر یہ تقریب بادشاہ یا ملکہ کی اکیلی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی اور شریک حیات عام طور پر اس میں شامل نہیں ہوتے تھے۔
اس سال کنگ چارلس نے اس روایت کو توڑتے ہوئے ملکہ کمیلا کے ہمراہ تقریب میں شرکت کی جس سے یہ تقریب ایک مشترکہ شاہی شرکت میں تبدیل ہو گئی۔ چھوٹی سی یہ تبدیلی شاہی رسومات میں اہمیت رکھتی ہے اور اس کی خاصیت یہی ہے کہ تاریخی روایات کے 800 سال بعد پہلی بار اس طرح کی شرکت دیکھی گئی۔
روایت شکنی کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟
کنگ چارلس کی ملکہ کمیلا کے ہمراہ مونڈی سروس میں شرکت نہ صرف روایت توڑنے کے مترادف ہے بلکہ ایک نرم شاہی پیغام بھی ہے۔
ٹائم کیپسول: لیڈی ڈیانا کا اگلی نسلوں کے لیے دفن کردہ خزانہ وقت سے پہلے سامنے آگیا
مبصرین کے مطابق اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بادشاہ شاہی روایات کو جدید انداز میں اپنانے کے ساتھ عوام کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے اور خاندان میں اتحاد و تعاون کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔













