امریکی سیاست ایک نئے تنازع سے دوچار ہے کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی اور اس سے وابستہ گروپس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
یہ آرڈر میل اِن ووٹنگ یعنی ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کو محدود کرنے سے متعلق ہے، جسے ڈیموکریٹس نے غیر آئینی اور ووٹرز کے حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا ہے۔
ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے بدھ کے روز دائر کی گئی 64 صفحات پر مشتمل درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ حکم نامہ ان کےصدارتی اختیارات سے تجاوز ہے۔
The Democratic Party filed a lawsuit asking a US judge to block President Trump's executive order tightening mail-in voting nationwide, arguing it improperly impedes states' authority to conduct elections https://t.co/UxYj2sTiF2
— Reuters (@Reuters) April 2, 2026
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صدارتی حکم نامہ قانونی ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ یہ اقدام ریاستوں کے روایتی اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے، کیونکہ امریکی آئین کے تحت انتخابات کے انتظامات کا بڑا اختیار ریاستوں کے پاس ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت میل اِن بیلٹس کو صرف ان افراد تک محدود کیا گیا ہے جو حکومتی ’اسٹیٹ سٹیزن شپ لسٹس‘ میں شامل ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں انتخابی اصلاحات، صدر ٹرمپ نے نیا حکم نامہ جاری کردیا
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیاسی فائدے کے لیے ووٹرز کو محروم کرنے کی کوشش ہے، ان کے مطابق ٹرمپ ماضی میں بھی بغیر ثبوت کے میل اِن ووٹنگ میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی معمولی برتری کھونے کا خدشہ لاحق ہے۔
خاص طور پر ایوانِ نمائندگان میں۔ اگر ڈیموکریٹس کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ نہ صرف ٹرمپ کی پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں بلکہ ان کے مواخذے کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل ریپبلکن پارٹی سیو امریکا ایکٹ کے نام سے سخت ووٹنگ قوانین منظور کرانے میں ناکام رہی تھی۔
تازہ مقدمے میں سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر اور ایوانِ نمائندگان میں پارٹی لیڈر حکیم جیفریز بھی بطور فریق شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر میل اِن ووٹنگ پر اس نوعیت کی پابندیاں عائد ہوئیں تو اس سے ووٹر ٹرن آؤٹ میں نمایاں کمی آسکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں انتخابات انتہائی معمولی فرق سے فیصلہ ہوتے ہیں۔













