اسٹیٹ بینک نے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ 27 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق اس دوران اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 6 ملین ڈالر اضافے کے بعد 16.38 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا ہدف عبور، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 5 ارب ڈالر کا تاریخی اضافہ
اسی عرصے میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ ذخائر 5.41 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے بعد پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 21.79 ارب ڈالر ہو گئے۔
اسٹیٹ بینک کے بیان میں کہا گیا کہ 27 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 6 ملین ڈالر اضافے کے ساتھ 16,381.7 ملین ڈالر ہو گئے ہیں۔
Total liquid foreign #reserves held by the country stood at US$21.79 billion as of March 27, 2026.
For details: https://t.co/WpSgomnKT3#SBPReserves pic.twitter.com/WCB79ZEo9V— SBP (@StateBank_Pak) April 2, 2026
ماہرین کے مطابق ذخائر میں یہ معمولی اضافہ بیرونی ادائیگیوں، درآمدی بل اور قرضوں کی واپسی جیسے عوامل کے باعث محدود رہا۔
تاہم مجموعی سطح پر ذخائر کا 21 ارب ڈالر سے اوپر رہنا معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا انقلابی اقدام: اب 13 سال کے ٹین ایجرز بھی اپنا بینک اکاؤنٹ خود آپریٹ کرسکیں گے
حالیہ مہینوں میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں استحکام دیکھا گیا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ عالمی مالیاتی اداروں سے معاونت، برآمدات میں بہتری اور ترسیلات زر میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ مہینوں میں ذخائر مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، جو ملکی کرنسی اور ادائیگیوں کے توازن کے لیے اہم ہوگا۔












