نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ملک بھر میں ٹول ٹیکس کی شرحوں میں اضافہ کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 5 اپریل سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: موٹرویز پر سالانہ کتنا ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور کونسی گاڑیاں مستثنیٰ ہیں؟
اعلامیے کے مطابق قومی شاہراہوں پر موٹر کار کا ٹول 100 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ کوہاٹ ٹنل پر کار کا ٹول بڑھا کر 250 روپے کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح مختلف موٹرویز پر بھی ٹول ٹیکس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے پشاور جانے والی ایم ون موٹروے پر کار کا ٹول 700 روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔
لاہور سے عبدالحکیم تک ایم تھری پر کار کا ٹول 800 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: موٹر وے اور جی ٹی روڈ ٹول ٹیکس میں اضافہ بھتے کی مانند ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن
پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور ملتان تک ایم فور پر کار کا ٹول 1050 روپے سے بڑھا کر 1300 روپے کر دیا گیا ہے۔
ملتان سے سکھر جانے والی ایم فائیو پر یہ ٹول 1200 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی خان سے ہکلہ تک ایم 14 موٹروے پر کار کا ٹول 650 روپے سے بڑھا کر 800 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح حسن ابدال، حویلیاں اور مانسہرہ کے درمیان ای 35 پر کار کا ٹول 300 روپے سے بڑھا کر 350 روپے کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ٹول ٹیکس مانگنے پر کیشیئر کو گولیاں مارنے والا کار سوار روپوش
مزید برآں ایم 1، ایم 3، ایم 4، ایم 5، ایم 14 اور ای 35 موٹرویز پر بڑی گاڑیوں کے ٹول ٹیکس میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد وہاں بعض روٹس پر آرٹیکیولیٹڈ ٹرک کا ٹول 7000 روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔













