انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں نرمی کی درخواست پر ابتدائی طور پر لچک دکھانے سے گریز کیا ہے، جبکہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں:مریم اورنگزیب کا شہباز شریف کو خراجِ تحسین، پیٹرول بحران میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کی تعریف
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو آئی ایم ایف کے مؤقف پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد انہوں نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ ادارے سے دوبارہ مذاکرات کرکے عوامی بوجھ کم کرنے کے لیے مؤثر دلائل پیش کیے جائیں۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ عوام پر ڈالنا ممکن نہیں کیونکہ اس سے مہنگائی میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے معاشی ٹیم کو ہدایت دی کہ ممکنہ اثرات کو کم کرنے کے لیے تمام آپشنز استعمال کیے جائیں۔
مزید پڑھیں:پیٹرول مہنگا، گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 60 فیصد اضافے کا اعلان
حکام کے مطابق حکومت پہلے ہی قریباً 129 ارب روپے کی سبسڈی دے کر ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر چکی ہے، جبکہ پیٹرول پر 100 روپے اور ڈیزل پر 55 روپے فی لیٹر لیوی بھی آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے۔













