امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قریبی اتحادی اور ملک کی اعلیٰ ترین قانون نافذ کرنے والی عہدیدار، اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ غیر متوقع فیصلہ پام بونڈی کی کارکردگی پر صدر کی مسلسل بڑھتی ہوئی ناراضگی اور بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلوں سے متعلق تنازعات کے بعد سامنے آیا ہے۔
🚨 BREAKING — IT'S OFFICIAL: President Trump confirms Pam Bondi is OUT as Attorney General, Deputy AG Todd Blanche is stepping in for now
"We love Pam, and she will be transitioning to a much needed and important new job in the private sector, to be announced at a date in the… pic.twitter.com/yJBx3yBFXi
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) April 2, 2026
صدر ٹرمپ نے پام بونڈی کی جگہ اپنے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب محکمہ انصاف (DOJ) پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پام بونڈی کی برطرفی کے پیچھے دو بڑے عوامل کارفرما تھے۔ پہلا اور اہم ترین سبب جیفری ایپسٹین کے کیس سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل ریکارڈ کی ریلیز میں مبینہ بدانتظامی تھی۔ ریپبلکن اراکینِ پارلیمنٹ اور ٹرمپ کے حامیوں کا الزام تھا کہ بونڈی ان فائلوں کو منظرِ عام پر لانے میں رکاوٹیں ڈال رہی تھیں۔

دوسری بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی وہ مایوسی تھی جو بونڈی کی جانب سے ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف قانونی کارروائیوں میں ‘سستی’ کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ صدر چاہتے تھے کہ ان کے ناقدین اور مخالفین کو فوری طور پر فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑے، لیکن بونڈی کی رفتار ان کے مطالبات کے مطابق نہیں تھی۔
قائم مقام اٹارنی جنرل کے طور پر ٹوڈ بلانچ کا انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بلانچ ماضی میں صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل رہ چکے ہیں اور ان کے وفادار ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد محکمہ انصاف کی ترجیحات میں بڑی تبدیلی آئے گی اور صدر ٹرمپ کے اہداف کے خلاف قانونی نظام کا استعمال مزید جارحانہ ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی وزیرِ دفاع نے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج سے استعفیٰ طلب کرلیا
سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے بونڈی کو ایک ’عظیم محب وطن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب نجی شعبے میں کام کریں گی۔ دوسری جانب پام بونڈی نے اس عہدے پر کام کرنے کو “زندگی کا سب سے بڑا اعزاز” قرار دیتے ہوئے ایک ماہ کے اندر چارج چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم ڈیموکریٹک سینیٹر ڈک ڈربن نے اس برطرفی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پام بونڈی کی میراث دنیا کے سب سے بڑے قانون نافذ کرنے والے ادارے کو ٹرمپ کے ذاتی فائدے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے، لیکن بظاہر وہ بھی صدر کی خوشنودی حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔
یاد رہے کلہ پام بونڈی، کرسٹی نوئم کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی دوسری بڑی سینیئر عہدیدار ہیں جنہیں حالیہ ہفتوں میں ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔











