خیبر پختونخوا میں تیز بارشوں اور اس کے باعث مختلف حادثات میں 26 افراد جاں بحق جبکہ 77 زخمی ہو گئے، جن میں 18 بچے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’کراچی نہیں موت کے کنویں‘، شہر قائد میں چند منٹوں کی بارش نے ایک بار پھر پیپلزپارٹی کی کارکردگی عیاں کردی
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبر پختونخوا نے صوبے میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کر دیں، جس کے مطابق صوبے میں طوفانی بارشوں سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 25 مارچ سے اب تک مختلف اضلاع میں پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق جبکہ 77 زخمی ہو گئے ہیں۔ زیادہ تر اموات طوفانی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 18 بچے، 3 مرد اور 5 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 33 مرد، 9 خواتین اور 35 بچے شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث مجموعی طور پر 102 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 20 مکمل طور پر منہدم جبکہ 82 کو جزوی نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بارشوں سے نقصانات بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر، بٹگرام، شمالی وزیرستان اور ٹانک سمیت مختلف اضلاع میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور متاثرین کو فوری امداد کی فراہمی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
پشاور میں نشیبی علاقے زیر آب، مختلف اضلاع میں سیلابی صورتحال
رات گئے سے جاری بارشوں کے باعث پشاور میں جگہ جگہ پانی جمع ہو گیا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ کوہاٹ روڈ، شیر شاہ سوری پل اور یونیورسٹی روڈ پر نکاسی آب کی خراب صورتحال کے باعث بارش کا پانی جمع ہو گیا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ مختلف نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے، جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بارش کے باعث ٹریفک متاثر، شہریوں کو احتیاط اور اضافی وقت کے ساتھ سفر کی ہدایت
پشاور کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی بارشوں کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ضلع خیبر میں سیلاب کے باعث پاک افغان شاہراہ بند ہے۔ چترال میں دروش کے مقام پر سیلابی ریلے کے باعث پشاور-چترال ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی ہے۔ سوات، دیر، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مقامی آبادی کو خطرات لاحق ہیں۔
بالائی اضلاع میں سیلاب اور گلیشیئر پھٹنے کا خطرہ
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 2 اپریل سے 8 اپریل تک مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں کو متاثر کرے گا، جس کے باعث تیز بارشوں اور برفباری کا امکان ہے۔
چترال اپر، چترال لوئر، دیر اپر، سوات اور کوہستان اپر میں شدید موسمی اثرات متوقع ہیں، جبکہ سوات کی منکیال، متلتان، اتروڑ اور گبرال وادیوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
دیر اپر کی کمراٹ وادی اور کوہستان اپر کی کندیا وادی میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ چترال کے مختلف علاقوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق مسلسل بارشوں اور برف پگھلنے کے باعث گلیشیئر پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے نشیبی آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ دریائے چترال اور دریائے سوات میں طغیانی جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے بچیں اور سرکاری الرٹس پر عمل کریں۔ سیاحوں کو بھی حساس اور پہاڑی علاقوں کا سفر مؤخر کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ملک بھر میں بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، محکمہ موسمیات
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں مغربی ہواؤں کا سلسلہ فعال ہے، جس کے باعث آئندہ چند روز کے دوران مختلف علاقوں میں بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور پہاڑوں پر برفباری، جبکہ بعض مقامات پر تیز بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش، اور چند مقامات پر موسلا دھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔ جبکہ کراچی اور حیدرآباد میں بھی بارش کی پیش گوئی ہے، اور بالائی سندھ میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیش گوئی کی ہے












