پاکستان اسٹاک ایکسچینج جغرافیائی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فروخت کے دباؤ میں رہا، جب جمعہ کے روز کے ایس ای 100 انڈیکس ایک فیصد سے زائد کمی کے ساتھ بند ہوا۔
مارکیٹ کا آغاز کمزور انداز میں ہوا اور ابتدائی سیشن میں انڈیکس تیزی سے گرتے ہوئے 149,000 کی سطح سے بھی نیچے آگیا، جہاں دورانِ کاروبار کم ترین سطح 148,796.54 ریکارڈ کی گئی۔
تاہم بعد ازاں خریداروں کی جانب سے دلچسپی کے باعث انڈیکس تیزی سے اوپر گیا اور دوران کاروبار 152,103 کی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
دوپہر کے بعد مارکیٹ میں مختصرمدت کی بہتری دیکھی گئی، مگر اختتام سے قبل دوبارہ فروخت کا دباؤ غالب آ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 1,612.55 پوائنٹس یعنی 1.06 فیصد کمی کے ساتھ 150,398.71 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بہتری کیپیٹل کے مطابق اگرچہ گزشتہ روز کی شدید مندی کے مقابلے میں گراوٹ کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے۔
Market Close Update: Negative Today! 👇
🇵🇰 KSE 100 ended negative by -1,612.6 points (-1.06%) and closed at 150,398.7 with trade volume of 270.1 million shares and value at Rs. 20.28 billion. Today's index low was 148,797 and high was 152,104. pic.twitter.com/4hidWNoF4e— Investify Pakistan (@investifypk) April 3, 2026
تاہم ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
جمعرات کو بھی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب عالمی منفی رجحانات کے باعث وسیع پیمانے پر فروخت ہوئی اور بینچ مارک انڈیکس 3,500.30 پوائنٹس یعنی 2.25 فیصد کمی کے ساتھ 152,011.26 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت میں بہتری، دوسری سہ ماہی میں 3.89 فیصد ترقی ریکارڈ
ادھر وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 43 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 55 فیصد اضافہ کیا گیا، تاہم کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے 3 ماہ کی عارضی سبسڈی برقرار رکھی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 184.49 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر بھی شیئرز بازار دباؤ کا شکار رہے۔ چین کی اسٹاک مارکیٹ میں جمعہ کو کمی دیکھنے میں آئی اور سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط رہے۔
ہانگ کانگ مارکیٹ ایسٹر کی تعطیل کے باعث بند رہی، چین کا سی ایس آئی 300 انڈیکس 0.6 فیصد جبکہ شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 0.9 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز اور عالمی تیل سپلائی چین سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث خدشات برقرار ہیں، جو مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔













