پاکستان کی معیشت نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں رفتار پکڑ لی، جہاں مجموعی طور پر 3.89 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس بہتری کی بڑی وجہ صنعتی شعبے کی نمایاں کارکردگی ہے، جو حالیہ برسوں میں سست روی کا شکار معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں اس عبوری شرح نمو کی منظوری دی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق صنعتی شعبہ 7.40 فیصد ترقی کے ساتھ سب سے آگے رہا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں محض 0.78 فیصد تھا۔ خدمات کے شعبے میں 3.69 فیصد جبکہ زراعت میں 1.76 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بازاروں کے کھلنے، بند ہونے کے اوقات قومی معیشت پر بوجھ بن گئے، خواجہ آصف
صنعتی ترقی میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کا اہم کردار رہا، جس میں 5.71 فیصد اضافہ ہوا، خاص طور پر آٹو موبائل پیداوار میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 15.11 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سبسڈیز میں اضافہ اور بجلی کی قیمتوں میں کمی رہی۔ تعمیرات کے شعبے میں بھی 10.53 فیصد اضافہ ہوا، جہاں سیمنٹ کی پیداوار 8.44 فیصد بڑھی۔
دوسری جانب زرعی شعبہ دباؤ کا شکار رہا۔ کپاس کی پیداوار میں 0.9 فیصد کمی ہوئی، جس سے بڑی فصلوں کی مجموعی پیداوار 1.87 فیصد کم ہو گئی، جبکہ دیگر فصلوں میں 5.69 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ بیجوں کی قیمت میں 6 فیصد اور کھاد کی قیمت میں 7.2 فیصد اضافے نے کسانوں پر مزید بوجھ ڈالا۔ تاہم لائیو اسٹاک کے شعبے میں 5.59 فیصد اضافہ کچھ حد تک سہارا فراہم کرتا رہا۔
کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کی شرح نمو کو بھی کم کر کے 3.63 فیصد کر دیا، جو پہلے 3.71 فیصد تھی۔ اس کمی کی وجہ کان کنی، مینوفیکچرنگ اور تعمیرات کے شعبوں میں کمزور کارکردگی بتائی گئی۔ اسی طرح مالی سال 2023-24 اور 2024-25 کی سالانہ شرح نمو بھی بالترتیب 2.62 فیصد اور 3.06 فیصد تک کم کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس: معیشت، توانائی اور علاقائی سلامتی کا تفصیلی جائزہ
تھوک و پرچون تجارت کے شعبے میں 4.46 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ زرعی پیداوار، مینوفیکچرنگ اور درآمدات میں اضافہ ہے۔ ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کے شعبے میں 2.79 فیصد ترقی ہوئی، جبکہ مالیات و انشورنس کے شعبے میں 4.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عوامی انتظامیہ اور سوشل سیکیورٹی میں 8.69 فیصد، تعلیم میں 4.90 فیصد، صحت و سماجی خدمات میں 5.66 فیصد اور دیگر نجی خدمات میں 2.79 فیصد اضافہ ہوا، جو مجموعی معاشی بہتری میں معاون ثابت ہوئے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت مالی سال 2022-23 میں ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے باعث سکڑ گئی تھی، تاہم موجودہ اضافی شرح نمو کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق صنعتی شعبے کی رفتار برقرار رکھنا آئندہ عرصے میں سب سے بڑا چیلنج ہوگا، خصوصاً جب زراعت اور کان کنی کے شعبے اب بھی دباؤ کا شکار ہیں۔














